36 views
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں
اگر کوئ شخص بینک میں  کیشئر ہے یعنی اسکا کام پیسوں کا لین دین کرنا ہے تو اسکی تنخواہ حلال ہے یا نہیں
asked Mar 13 in فقہ by salman ansari

1 Answer

Ref. No. 39 / 974

الجواب وباللہ التوفیق    

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بینک کا پورا کاروبار سود پر مبنی ہوتا ہے، اور تنخواہ بھی سودی رقم سے دی جاتی ہے، جبکہ حدیث پاک میں سودی کاروبار میں کسی طرح کی شرکت اور تعاون  کو حرام قراردیا گیا ہے۔ اس لئے  ایسے پیسوں  سے ملنے والی تنخواہ  حلال کیسے کہی جاسکتی ہے۔ تاہم ذریعہ آمدنی بند ہوجانے سے دیگر مفاسد کا اندیشہ ہے اس لئے علماء کہتے ہیں کہ بینک کی ملازمت فی الحال جاری رکھے اور دوسری جائز ملازمت کی تلاش بھی کرتا رہے اور جب کوئی دوسری ملازمت مناسب مل جائے تو بینک کی ملازمت چھوڑدے۔  

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 19 by Darul Ifta
...