67 views
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ اپنی گاڑی یا دکان وغیرہ کا انشورنس کیسا ہے؟
اسی طرح ایل آئ سی جیون بیما کرانا کیسا ہے؟
asked Jul 29, 2018 in ربوٰ وسود/انشورنس by Suhail Ahmad Qasmi

1 Answer

Ref. No. 39/1112

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔انشورنس  کا معاملہ مکمل سود ی معاملہ ہے، اور سودی معاملہ کرنا حرام ہے۔ البتہ شریعت میں ضرورت کے مواقع میں گنجائش دی گئی ہے۔ اس لئے جن چیزوں کے استعمال کے لئے انشورنس کرانا لازم ہو اور قانونی مجبوری ہو تو ایسی صورت میں انشورنس کرانے کی گنجائش ہے۔ اور اگر قانونی مجبوری نہ ہو تو پھر انشورنس کرانا جائز نہیں ہے۔ جیون بیمہ قانونی طور پر لازم نہیں اس لئے حرام ہوگا۔ دوکان کا بیمہ بھی اسی طرح ہے کہ اگر قانونی مجبوری کے تحت کرایا جائے تو ہی جائز ہوگا ورنہ نہیں۔   

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 4, 2018 by Darul Ifta
...