79 views
کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل کے بارے میں

میرے والدین نے انجانے میں بیمہ کرایا تھا جس میں ہمیں ایک لاکھ روپے سود ملیگا اب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ بیمہ کرانا نا جائز اور حرام ہے ......اور ہم بیمہ کی قیمت سے زیادہ مقروض ہیں .......تو آپ سے درخواست ہیکہ آپ ہمیں ایسا راستا بتا دیجئے کہ ہم اسے اپنا قرض ادا کر سکے یا کہیں اور استعمال کر سکے...
asked Sep 18, 2018 in ربوٰ وسود/انشورنس by salman ansari

1 Answer

Ref. No. 39/1168

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بیمہ کرانا ناجائز تھا لیکن  اب اس رقم کو بیمہ کمپنی سے نکال لینا اور کسی غریب  اور مستحق کو بلا نیت ثواب صدقہ کردینا لازم ہے ۔  اگر آپ خود صاحب نصاب نہیں ہیں ،مقروض  بھی ہیں اوربیمہ کی رقم سے قرض کی ادائیگی چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔  اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد بچ جائے تو آپ اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں، یا کسی اور مستحق کو بلا نیت ثواب صدقہ کردیں۔

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 23, 2018 by Darul Ifta
...