48 views
بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا فرماتے ہیں علماء دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد کا ممبئی میں ایک فلیٹ تھا جو     انھوں نے  آ ٹھ سال پہلےاپنے چار بیٹوں کو ہبہ کردیا تھا ،  آٹھ سال سے وہ فلیٹ ہم چار بیٹوں کے قبضے میں ہیں ،  والد صاحب کا اس میں تھوڑا سامان تھا جو ہم نے ایک گوشہ میں رکھ دیا تھا، والد صاحب تقریبا دس سال سے گاوَں میں ہی مقیم تھے، اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے ، پوچھنا یہ ہے کہ آیا  اس فلیٹ کا ہبہ صحیح ہے یا نہیں ؟
یہاں علماء میں ایک اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ ہبہ میں یہ شرط ہے کہ واہب اپنا پورا سامان نکال کر دے  تب ہی ہبہ درست ہوگا ورنہ ہبہ درست نہیں ہے جب کہ بعض دیگر علماء کہہ رہے ہیں ہبہ میں مدار عرف پر ہے اور ممبئی کےعرف میں اس کو ہبہ سمجھا جاتا ہے اس لیے  ہبہ صحیح ہے ۔
برائے کرم رہنمائی فرمائیں
المستفتی: ابو سعدان    ممبئی
asked Nov 27, 2018 in فقہ by Abu Sadan

1 Answer

الجواب وباللہ التوفیق:-بسم اللہ الرحمٰن الرحیم: بشرط صحت سوال مذکورہ صورت میں ہبہ درست ہوگیا۔ کچھ سامان کا رکھا رہنا ہبہ درست ہونے کے لئے مانع نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم

دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
answered Nov 28, 2018 by Darul Ifta
...