11 views
1.خَرَجَ دَمٌ مِنْ الْقُرْحَةِ بِالْعَصْرِ وَلَوْلَاهُ مَا خَرَجَ نَقَضَ فِي الْمُخْتَارِ، كَذَا فِي الْوَجِيزِ لِلْكَرْدَرِيِّ وَهُوَ الْأَشْبَهُ، كَذَا فِي الْقُنْيَةِ.
وَهُوَ الْأَوْجُهُ، كَذَا فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ لِلْحَلَبِيِّ.
2..وَإِنْ قُشِرَتْ نُقْطَةٌ وَسَالَ مِنْهَا مَاءٌ أَوْ صَدِيدٌ أَوْ غَيْرُهُ إنْ سَالَ عَنْ رَأْسِ الْجُرْحِ نَقَضَ وَإِنْ لَمْ يَسِلْ لَا يَنْقُضُ هَذَا إذَا قَشَرَهَا فَخَرَجَ بِنَفْسِهِ أَمَّا إذَا عَصَرَهَا فَخَرَجَ بِعَصْرِهِ لَا يَنْقُضُ؛ لِأَنَّهُ مُخْرَجٌ وَلَيْسَ بِخَارِجٍ، كَذَا فِي الْهِدَايَة

حضرات گرامی سے عرض ہے کہ یہ عبارات فتاویٰ عالمگیریہ کی ہیں اور ان دونوں مسئلوں میں بظاہر تعارض ہے عصر کے معاملہ میں تو اس تعارض کو کیسے رفع کیا جائے جبکہ بظاہر دونوں مفتی بہ ہیں
والسلام
asked May 12 in فقہ by ابو محمد

1 Answer

Ref. No. 40/1110

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ پہلے اصل مسئلہ سمجھیں  کہ غیرسبیلین سے اگر کوئی چیز نکلے اور نکل کر اپنی جگہ سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جاتاہے اور اگر اتنی معمولی مقدار میں ہے کہ وہ اپنی جگہ سے نہ بہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے ۔ لیس فی القطرۃ والقطرتین من الدم وضوء الا ان یکون سائلا ۔ اس مسئلہ کی روشنی میں اگر غورفرمائیں تو پہلی عبارت درست ہے کہ زخم سے نجاست نکلی اور اتنی مقدار میں ہے کہ نچوڑنے کی صورت میں سیلان پایاجاے گا تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ اس کی کیفیت یہ ہے کہ اگر نہ نچوڑا جاتا تو نہ بہتا۔ جہاں تک ہدایہ کی عبارت کا تعلق ہے اما اذا عصرھا فخرج بعصرہ لاینقض لانہ مخرج ولیس بخارج، یہ درست نہیں ہے، اس لئے کہ اس صورت میں بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ وضو کے ٹوٹنے کا مدار خارج پر ہے اور مخرج سے بھی خارج کا وجود ہوجاتا ہے۔  چنانچہ علامہ لکھنوی صاحب نے ہدایہ کی اس عبارت پر نقد کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ : وذکر فی الکافی الاصح ان المکڑج ناقض انتہی کیف لا؟ وجمیع الادلۃ من الکتاب والسنۃ والاجماع والقیاس تدل علی تعلیق النقض بالخارج النجس وھو الثابت فی المخرج۔ (حاشیہ ہدایہ 1/116)۔

  واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jul 23 by Darul Ifta
...