135 views
Ref. No. 936

ایک شخص کا قول ہے کہ پندرہویں شعبان کی شب تلاوت کرنا اہتمام کے ساتھ جاگ کر دوسرے دن کے مقابلہ عبادت کرن نوافل صلوۃ التسبیح پڑھنا اور اپنے اعزاء کی قبروں پر جاناقبروں پر کھڑے ہوکر دعاء کرنا یہ تمام کی تمام بدعت ہے۔ اس کا کوئی ثبوت قرآن وحدیث سے نہیں ہے۔ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
asked Jan 7, 2015 in حدیث و سنت by nelofar

1 Answer

Ref. No. 1019

الجواب وباللہ التوفیق:

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ پندرہویں شعبان کی رات میں انفرادی طور پر دعاء، تلاوت، نماز وغیرہ عبادات میں مشغول ہونے اور دن میں روزہ رکھنے کی  فضیلت روایات سے ثابت ہے۔ عن علي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا کانت لیلة النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارھا فإن اللہ تعالی ینزل فیہا لغروب الشمس إلی السماء الدنیا  الخ ۔ ابن ماجہ شریف۔ اسوجہ سے دیگر نوافل کے مقابلہ میں اس رات کی نوافل کا ثواب زیادہ ہے۔اس کے علاوہ دیگر خرافات  اور بدعات جو آج شروع ہوگئی ہیں مثلا حلوہ پکانا ، چراغاں کرنا، رات بھر جاگ کرمسجد اور قبرستان میں شور شرابہ کرنا یہ سب خلاف شریعت امور ہیں۔ قبرستان جانا بھی حدیث سےثابت ہے  اسلئے اگر کبھی چلاجائے تو حرج نہیں تاہم اس کو رسم نہ بنایا جائے اور قبرستان کے  تقدس کی پامالی اور شور وغل سے اجتنا ب کیا جائے، قبرستان جانے کا مقصد تذکیر آخرت اور اہل قبور کے احوال سے عبرت حاصل کرنا ہی ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 3, 2015 by Darul Ifta
...