45 views
آج کل کی بہت سی تجارتوں میں کمپنی کی طرف سے خریدار کو اجازت ہوتی ہے کہ   بلا شرط وہ خریداہوا سامان  واپس کرسکتے ہیں شرط صرف یہ ہے کہ اس میں کوئی ظاہری نقصان نہ ہوا ہو۔  اگر کوئی خریدار کوئی سامان اس نیت سے خریدتا ہے کہ اس کوعارضی طور پر  استعمال کرکے اور اپنا کام پورا کرکے واپس کردے گا جبکہ ایسی کوئی شرط خریدتے وقت بیان نہیں کی گئی تھی، صرف خریدار کی نیت تھی کہ استعمال کرکے واپس کردے گا تو کیا یہ معاملہ درست ہوگا؟  صرف استعمال کرکے واپس کرنے کی نیت سے خریدنا درست ہوگا ؟ مثلا دس ہزار کا پرنٹر خریدا اور گھر لاکر س سے کچھ پرنٹس نکالے اور کام پورا ہواگیا تو سامان واپس کردیا اور اپنے دس ہزار واپس لے لئے۔ اس طور پر خریدار جو مارکیٹ میں پرنٹس کے لئے دو سو روپئے خرچ کرتا وہ اس کا بچ گیا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ کلیم امریکہ
asked Jan 13 in تجارت و ملازمت by azhad1

1 Answer

Ref. No. 41/1010

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بیع ایک عقد ہے جسے پورا کرنے کا حکم  دیا گیا ہے۔ صورت مذکورہ میں اس کی نیت ہے کہ خرید کر کام کرکے واپس کردوں گایعنی عقد کے ساتھ ہی عقد کو ختم کرنے کی نیت کرنا ہے جو کہ اوفوا بالعقود کے خلاف ہے اس لئے مشتری کا یہ عمل کہ خرید کر واپس کردوں گا یہ دیانۃ درست نہیں ہے۔ نیز واپس کرنے میں ایک قسم کا دھوکہ  بھی شامل ہے اس لئے کہ واپس کرنے والا بظاہر یہ نہیں کہتا ہے  کہ میری ضرورت پوری ہوگئی  اس لئے واپس کررہاہوں، بلکہ وہ اپنے عمل سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ چیز میں لے کر گیاتھالیکن مجھے یہ سامان پسند نہیں ہے، اس لئے میں واپس کررہا ہوں اس طرح وہ نفع اٹھانے کو چھپاتاہے جبکہ اس نے نفع اٹھاکر سامان کو کسی نہ کسی درجہ میں عیب دار بنادیا ہے۔البتہ  اگر وہ بائع کو صاف بتادے کہ میں نے سامان خریدا تھا پھر کچھ استعمال کیا اور اب واپس کرنا چاہتاہوں اور بائع سامان واپس لے لے تو کوئی خرابی نہیں ہے، یہ اقالہ ہوگا جو کہ جائز ہے۔

 واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 16 by Darul Ifta
...