120 views
حضرت مفتی صاحب زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اتصال صفوف سے متعلق ایک مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں!

ہماری مسجد کے شمال کی جانب دیوار سے متصل ایک خالی جگہ ہے، جہاں نمازیوں کے لیے جمعہ اور عیدین کی دنوں میں چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دیوار سے متصل پانچ، چھ صفیں بچھائی جاتی ہیں، جس میں ایک صف کے اندر چھ سات نمازی کھڑے ہو سکتے ہیں، پھر ان صفوں کے دائیں جانب ہی پانچ چھ فُٹ جگہ لوگوں کے گذرنے کے لیے چھوڑ کر مزید صفیں بنائی جاتی ہیں۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طرح صفوف کے عدم اتصال سے نماز ہوجائے گی یا نہیں یا اتصال صفوف ضروری ہے، جب کہ چھوڑی ہوئی جگہ لوگوں کی مستقل گذر گاہ ہے، اس کے علاوہ ان کے لیے اور کوئی گذرنے کا راستہ بھی نہیں ہے ؟

براہ کرم شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں!

محمد یوسف ممبئی
asked Mar 13 in نماز / جمعہ و عیدین by Md Yousuf

1 Answer

Ref. No. 41/1093

الجواب وباللہ التوفیق     

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مذکورہ صورت میں نماز درست ہے، لیکن اگر فاصلہ دو صفوں کے بقدر یا زائد ہے تو اقتداء درست نہیں ہوگی۔

والمانع فی الصلوۃ فاصل یسع فیہ صفین علی المفتی بہ۔ (مراقی الفلاح  ۲۹۲)

 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 24 by Darul Ifta
...