93 views
السلام علیکم , حضرات علمائے کرام سے پوچھنا یہ ہے کہ مجھے طلاق  کے بارے بہت وسوسے آتے ہیں ۔  یہ وسوسہ طلاق  کنآئی کے ہیں کنائی کے لفظ عربی "حر" ھے وسوسہ آنے کی کیفیت یہ ھے کہ پہلے وسوسہ آتے کہ یہ لفظ بولا ہے یا نہیں اس بارے سوچھنے میں رہتا تو اس وقت کبھی صرف "ح"یاتو "حر " نکلتا ۔ کبھی کبھی سمجھنے میں آتا کہ صرف "ح"نکلا کبھی آتا کہ "حر" نکلا ۔ اور جب سوچھنے میں ہوتا تو غیر اختیآری طور پر بیوی اور طلاق کی نیت اجاتا  میں نے کبھی اختیار سے نیت نہیں کیا ۔ کیا غیر اختیاری نیت  ,اصلی نیت کے زمرے میں ھوتا ہے
asked Apr 3 in فقہ by عالم

1 Answer

Ref. No. 41/1114

الجواب وباللہ التوفیق:

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ غیراختیاری طور پر دل میں آنےوالی بات وسوسہ ہے، نیت  کا وجود ارادہ پر ہی موقوف ہے۔ لہذاا ٓپ کا وسوسہ نیت کے قائم مقام نہیں ہوگا اور اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Apr 6 by Darul Ifta
...