24 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
خدمت عالیہ میں عرض ہے کہ میرے محلّہ کی ایک پرانی مسجد ہے، جو اصل میں 2 منزلہ ہے مگر دوسری منزل کی چھت کے اوپر چاروں طرف تقریباً 3 فٹ کی دیوار سے گھیرا بندی کرکے پائپ کی مدد کے ذریعہ اس پر کرکٹ سے چھاؤنی کر دی گئی اور مسجد کو 3 منزلہ کی شکل دے دی گئی، مسجد پرانی ہونے کی وجہ سے معمار کے مطابق تیسری منزل ڈھلائی نہیں کی جا سکتی-
 مگر آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نماز میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،
 لہٰذا اس صورت میں کیا مسجد کی دوسری منزل پر مدرسہ قائم کرکے پہلی منزل کو مسجد کی اصل شکل میں ہی رکھتے ہوۓ مدرسہ کے بچوں اور اساتذہ کے ذریعہ نماز جاری رکھتے ہوئے دوسری جگہ نئی اور بڑی مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے ؟
asked Apr 15 in اسلامی عقائد by hamalik

1 Answer

Ref. No. 878/41-1122

الجواب وباللہ التوفیق      

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مذکورہ میں دوسری منزل پر مدرسہ قائم کرنے کی ضروررت کیا ہے، سوال میں اس کی وضاحت نہیں ہے۔ اگر مسجد بوسیدہ ہورہی ہے تو اس کی از سر نو تعمیر کی جاسکتی ہے، دوسری جگہ بڑی مسجد تعمیر کرکے اصل مسجد کو مدرسہ بنانا درست نہیں ہے۔ جو مسجد ایک مرتبہ مسجد بن جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہوجاتی ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ عارضی طور پر کہیں نماز پڑھیں اور اس مسجد کی از سر نو تعمیر کرلیں، اور اگر یہ محسوس ہوتا ہو کہ یہ جگہ آبادی کے حساب سے مسجد کے لئے ناکافی ہے تو اس کو مسجد باقی رکھتے ہوئے دوسری مسجد تعمیر کرلی جائے۔

 ولو خرب ماحولہ واستغنی عنہ یبقی مسجدا عندالامام والثانی ) ابدا الی قیام الساعۃ  (وبہ یفتی ) حاوی القدسی (وعاد الی الملک) ای ملک البانی او ورثتہ (عند محمد)۔

قال فی البحر: وحاصلہ ان شرط کونہ مسجدا ان یکون سفلہ وعلوہ مسجدا لینقطع حق العبدعنہ لقولہ تعالی( وان المساجد للہ-سورۃ الجن 18) بخلاف ما اذا کان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد ، فھو کسرداب بیت المقدس ھذا ھو ظاھر الروایۃ وھناک روایات ضعیفۃ مذکورۃ فی الھدایۃ اھ (ردالمحتار 4/358)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jun 10 by Darul Ifta
...