26 views
اسالامو علیکم و رحمت اللہ
مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب "بیستھی زیور" میں ذکر کیا ہے کہ اگر ایک بالغ جوڑے نے 2 گواہوں کے سامنے ایک دوسرے کو قبول کیا تو وہ شادی شدہ ہیں۔
(بہشتی زیور ، حصissہ 4 ، مسلہ نمبر 09 ، صفحہ 228-229 (ہندی کتاب)
میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک بالغ عورت 33 سال کی ہے اور 2 بیٹیوں کی ماں ہے جنہوں نے کھولا لیا ہے ، تو اس نے 38 سال کی سمجھدار سابقہ ​​شوہر کو خط لکھا۔
"میں بہت سارے جسمانی مسائل میں ہوں ، پھر بھی آپ مجھے قبول کریں گے" اور اس شخص نے تحریر میں جواب دیا "ہاں میں آپ کو قبول کر رہا ہوں"۔
کیا اسے نکاح کی طرح سمجھا جائے گا؟
کیونکہ تحریری بیان اس کے والدین اور اس کے شوہر کے سرپرستوں کو بھی دکھایا گیا ہے اور وہ گواہ ہیں۔
شکریہ کے ساتھ
S.H.Mozumder
asked Apr 17 in اسلامی عقائد by sahinurhassan

1 Answer

Ref. No. 880/41/04B

الجواب وباللہ التوفیق      

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مذکورہ میں نکاح درست نہیں ہوا، جس مجلس میں سابقہ شوہر کو تحریر ملی ، اگر اس مجلس میں دو گواہوں کی موجودگی میں سابق شوہر نے کہا کہ میں اس عورت کو اپنے نکاح میں قبول کررہا ہوں تو نکاح درست ہوگا ورنہ نہیں۔

ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل وامراتین۔ (ھدایہ ج2 ص286)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jun 7 by Darul Ifta
...