29 views
بکری کو پال پر دینا اور جو بچہ ہوگا اس کی تقسیم کرناکیسا  ہے
اس میں کوئی تفصیل ہو تو بتائیں
اسرار لکھنؤ
asked Jun 13 in تجارت و ملازمت by azhad1

1 Answer

Ref. No. 927/41-53B

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بکری کو پا ل پر دینے کی جو شکلیں  آج کل رائج ہیں (جس میں ایک آدمی اپنی  بکری دوسرے کو اس کے نصف منافع کے عوض  پال پر دیتا ہے کہ تم اس کو چارہ کھلاؤ دیکھ بھال کرو، اور جو بچہ یہ دے گی اس کو آدھا آدھا تقسیم کرلیں گے) وہ شرعاً ناجائز ہیں۔  اگر کسی نے ناجائز ہونے کے باوجود ایسا معاملہ کرلیا تو جلد از جلد اس کو ختم کردینا ضروری ہے، اور بکری کا مالک اپنی بکری اور اگر بچہ ہو تو اس کو بھی اپنی ملکیت میں  واپس لے لے اور پالنے والے کو اس کی اجرت مثل دےدے۔ 

شرعی اعتبار سے ایک جائز شکل یہ ہوسکتی ہے کہ بکری  کا مالک بکری پالنے والے کو آدھی بکری  بیچ کر یا ہبہ  کرکےاس کو بکری میں شریک بنالے اور پھر دونوں باہمی رضامندی سے منافع کی تقسیم کرلیں، توایسا کرنا درست ہوگا۔  

فلو دفع بزر القز أو بقرة أو دجاجا لآخر بالعلف مناصفة فالخارج كله للمالك لحدوثه من ملكه وعليه قيمة العلف وأجر مثل العامل عيني ملخصا، ومثله دفع البيض كما لا يخفى (الدرالمختار 5/69)۔ وعلى هذا إذا دفع البقرة بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين، فما حدث فهو لصاحب البقرة وللآخر مثل علفه وأجر مثله تتارخانية. (الدرالمختار 4/327)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jun 15 by Darul Ifta
...