208 views
Ref. No. 984

داڑھی کا مفصل حکم بیان فرمائیں کہ چاروں ائمہ کا کیا مسلک ہے اور ایک مشت کی قید کس کے یہاں ہے؟
asked Feb 24, 2015 in زیب و زینت و حجاب by jalal

1 Answer

Ref. No. 1062 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ داڑھی رکھنا واجب ہے، اور ایک مشت پہونچنے سے پہلے کٹوانا بالاتفاق ناجائز ہے۔ حدیث میں آپ نے فرمایاخالفوا المشرکین واوفروا اللحی واحفوا الشوارب ﴿متفق علیہ﴾ یحرم قطع لحیتہ ﴿شامی﴾  واما الاخذمنھا ای من اللحیة وھی دون ذلک ای دون القبضة کمایفعلہ بعض المغاربةومخنثة الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل یھود الھند ومجوس الاعاجم فتح اہ ﴿درمختار﴾۔ حدیث  شریف میں امر کا صیغہ ہے جو وجوب کے لئے ہوتا ہے جیسا ک فقہ کا قاعدہ ہے الامر للوجوب مالم تکن قرینة خلافہ۔ لہذا  جب داڑھی بڑھانا واجب ہوا تواس کی ضد  کٹوانا یقینا حرام ہوگا۔  اگر امر وجوب کے لئے نہ ہوتا تو احیاناًاس کے خلاف بھی منقول ہوتا مگر قولاً و فعلا ًکبھی بھی بیان جواز کے لئے اس کی نوبت نہیں آئی۔ چنانچہ مالکیہ وحنابلہ نے داڑھی منڈانے کو حرام اور حنفیہ وشوافع نے مکروہ تحریمی یعنی قریب بہ حرام قراردیا ہے۔ ﴿قاموس الفقہ / فقہ اسلامی﴾۔

رہا ایک مشت کی تحدید کا مسئلہ تو چونکہ الفاظ حدیث کاتقاضہ تھا کہ بڑھانے کی کوئی حد مقرر نہ ہوتی اور کٹانا بالکل جائز نہ ہوتا مگر حدیث کے راوی صحابی کا معمول تھا کہ ایک مشت سے جو مقدار آگے بڑھ جاتی اس کو کٹادیتے ۔ ایک مشت سے پہلے کٹوانا کسی صحابی سے ثابت نہیں۔ جو لوگ کٹوانے کے قائل ہیں ان پر  لازم ہےکہ کٹوانے کی کوئی دلیل پیش کریں۔ و اللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 4, 2015 by Darul Ifta
...