21 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ    کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام  
مسئلہ ذیل کے بارےمیں  
سوال یہ ھیکہ  لڑ کا اور لڑکی کے سگائ کے  موقع پر  لڑکی والے اپنی خو شی سے کچھ روپیہ  دینا چاہتے ہیں
لڑ کے والے یہ روپیہ لے سکتے ہیں یا نہیں

سوال نمبر 2 ) ایک لڑکا ہے وہ مولانا ہے  اسکی شاد کی بات ہورہی ہے  
ان کے والدین  لڑکی والے سے مانگ کر  ایک لاکھ سے بھی زائد روپیہ نقد لے رہے ہیں  
لیکن مولانا  ناراض ہے اور
اپنے والدین کو  سمجھا تے بھی ہیں پھر بھی والدین  
مان نے کیلے تیار نہیں  اب اس موقع پر لڑکے کو کیا کرناچاہیے
المستفتی محمد کامران رامنگر سے
asked Jul 4 in اسلامی عقائد by MD kamran

1 Answer

Ref. No. 986/41-147

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  نام و نمود سے بچتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق بچی کو منگنی کے موقع پر خوشی کی وجہ سے کچھ ہدیہ کے طور پر دینا ، ایسے ہی شادی کے موقع پر ضرورت کا سامان دینا جائز ہے، اور اس کا لینا بھی جائز ہے۔ لیکن لڑکے والوں کا جہیز یا تلک کا مطالبہ کرنا یا نام و نمود کی خاطر یا اپنی حیثیت سے زیادہ محض معاشرتی دباؤ کی وجہ سے جہیز یا تلک  کے طور پر دینا شرعا جائز نہیں ہے۔ اور لڑکے والوں کا لڑکی والوں کو جہیز پر مجبورکرنا قطعا جائز نہیں ہے۔ ایسی شادی جس میں مال مقصود ہو مزید تنگدست بنادے گی۔ حدیث میں ہے: من تزوج لمالھا لم یزدہ الا فقرا۔

لہذا آپ کو چاہئے کہ اس سے بہرصورت بچیں، کیونکہ جس عمل سے خالق ناراض ہوں اس میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں چاہے وہ والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ اور اگر والدین مذکورہ صورت میں ہی نکاح پر بضد ہوں تو بعد میں آپ اُسے لوٹادیں۔ (نظام الفتاوی 2/156)۔ اخذ اھل المراۃ عندالتسلیم فللزوج ان یستردہ لانہ رشوۃ (فتاوی دارالعلوم دیوبند، مائل جہیز 8/364)  ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jul 7 by Darul Ifta
...