39 views
السلام علیکم ۔ مفتیان عظام  مجھے طلاق کے وسوسے آتے بہت وسوسے آتے ۔ ایک دن رات شک اور وسوسہ آیا کہ لفظ "جا"کہا ہے یا نہیں اس بآرے سوچنے میں تھے  تو اس سوچنے کے وقت لفظ "جا" تلفظ ہوا یا "جو"تلفظ  ہوا اس میں یقین نہیں ۔   اور کہنے کا ارادہ بھی نہیں  سوچنے میں ہوتے تو جبرا  زبان حرکت دیتی اور محسوس ہوتا کہ تلفظ ہوگیا ۔   مجھے کہنے کا سو فیصد یقین نہیں ۔  میں نے اس لفظ خود سنا یا نہیں اس میں بھی سو فیصد یقین نہیں  ۔ ایک دن تک میں نے سوچا کہا ہے یا نہیں ۔ لیکن کوئی یقین حاصل نہیں ہوا ۔  کبھی معلوم ہوتا کہ کہا ہے  بعد میں شک اتا ہے ۔  (جس رات اس لفظ کہنے کا شک آیا اس رات میں نے دل دل کہا کہ اضافت یاتو نیت نہیں اس سے کچھ نہیں ہوتا ۔  الغرض رات میں یہ بات ذہن میں لایا کہ  طلاق  واقع ہونے کے کوئی رکن مفقود ہے ۔ اب یہ رکن کیا کچھ یاد نہیں ۔
asked Jul 5 in فقہ by عالم

1 Answer

Ref. No. 990/41-146

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ طلاق کے لئے لفظ طلاق یا اس کے ہم معنی الفاظ کو زبان سے ادا کرنا ضروری ہے۔ محض وسوسہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ لفظ "جا" سے اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق  واقع نہیں ہوتی، جبکہ یہاں پر "جا" کے بولنے کا بھی یقین نہیں ہے۔ اس لئے مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

ورکنہ لفظ مخصوص ھو ماجعل دلالۃ علی معنی الطلاق من صریح او کنایۃ  فخرج الفسوخ الخ (ردالمحتار رکن الطلاق 3/230- نظام الفتاوی 2/144)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jul 7 by Darul Ifta
...