70 views
محترم المقام مفتی صاحب:

ایک بندہ کو پیشاب کے بعد قطرہ جانے کی شکایت ہے۔ پیشاب کے قطروں سے حفاظت کے لیے عضو مخصوص پر ٹشو پیپر لپیٹتا ہے تا کہ کپڑے خراب
نہ ہوں۔

۱۔ کیا ایسے شخص کو بھی عذاب قبر ہوگا جس کو پتہ ہی نہ چلے کے کب قطرہ نکل گیا، اور کیا عذاب قبر سے بچنے کے لیے ٹشو پیپر کا استعمال کرنا درست ہے۔

۲۔ یہ شخص ہر نماز کے وقت نیا ٹشو پیپر لپیٹ لیتا ہے۔ لیکن بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قطرہ نکلا۔ لیکن چیک کرنے پر اوپر تری نہیں ہوتی اور صاف ہوتا ہے۔ تو کیا ٹشو پیپر کھول کردیکھنا ضروری ہوگا کہ قطرہ گیا یا نہیں یا صرف اوپر سے دیکھ لینا کافی ہوگا۔
۳۔ کیا ایسے شخص کے لیے ہر نماز کے بعد ٹشو پیپر کھول کر دیکھنا ضروری ہے۔ واضح ہو کہ اکثر ودی کے قطرے آٗے ہوے
ہوتے ہیں اور محض وسوسہ  بھی  بہت ہوتا ہے۔

بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ اوپر سے تری تو نہیں ہوتی لیکن ٹشو پیپر سوراخ سے چپکا ہوا ہوتا ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جاٗے گا اور نماز دہرانی ہوگی۔ رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
دعاوں کی گزارش ہے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
asked Jul 11, 2020 in طہارت / وضو و غسل by drawaisahmed01

1 Answer

Ref. No. 1017/41-172

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   ۱:۔ پیشاب کے قطروں سے حفاظت کے لئے ٹیشو پیپر کا استعمال کرنا درست ہے، اور اس قدر اہتمام سے بھی عذاب قبر سے نجات ہوگی ان شا٫ اللہ۔۲:۔  اگر قطرہ نکلنے کا شبہ ہوا تو  کھول کر دیکھنا ضروری ہوگا، دیکھنے کے بعد تسلی ہوگئی ، اب پھر شبہ ہوا تو اب اسی میں نماز پڑھے جب تک نکلنے کا غالب گمان نہ ہوجائے۔ اور اس صورت میں اگر سوراخ کی جانب ٹیشو پیپر پر تری نظر نہیں آتی ہے تو پاک سمجھاجائے گا، اور اسی میں نماز ہوجائے گی۔ ۳:۔ اگر نماز کے بعد ٹیشو پیپر کھول کر دیکھا تو سوراخ سے چپکاہوا تھا لیکن اس کے علاوہ ٹیشو کے دوسرے حصے گیلے نہیں ہوئے تھے تو بھی نماز ہوگئی۔

قلت: ومن كان بطيء الاستبراء فليفتل نحو ورقة مثل الشعيرة ويحتشي بها في الإحليل، فإنها تتشرب ما بقي من أثر الرطوبة التي يخاف خروجها، وينبغي أن يغيبها في المحل ؛لئلا تذهب الرطوبة إلى طرفها الخارج (الدر المختار  مع رد المحتار، فروع فی الاستبراﺀ 1/345)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل، وإن متسفلة عنه لا ينقض (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت، فإن رطبه انتقض، وإلا لا. (الدرالمختار مع رد المحتار، باب سنن الوضوﺀ 1/148)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jul 13, 2020 by Darul Ifta
...