47 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بعد سلام عرض ہے کہ آج کل کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ علماء کو سیاست میں قدم رکھنا چاہیے اور اس کے بہت سے پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ علماء سیاست میں قدم کیسے رکھیں اور کونسی شکل اختیار کریں
بعض علماء کو سیاست کا شوق ہوتا ہے لیکن ان کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کس طرح آگے بڑھے
عورتوں کو بھی آگے پڑھانے کا کہتے ہیں تو ان کو آگے پڑھانے کی کیا شرائط ہیں کیونکہ آج کے زمانے میں بالغ عورت کا گھر کے باہر پڑھائی یا کام کے لیے جانا اچھا نہیں ہے کیونکہ بہت سے برے واقعات ہوتے ہیں
 آپ مکمل رہنمائی فرمائیں
asked Aug 14, 2020 in سیاست by Sajid

1 Answer

Ref. No. 1079/42-482

الجواب 
واللہ الموفق:  سیاست شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے؛ بلکہ سیاست بھی دین کا حصہ ہے اور حضرات ا نبیاء دین وسیاست کا جامع ہوتے تھے، آپ ﷺ معلم بھی تھے ، پیغامبر بھي ، ہادی ورسول اور کمانڈر بھی اس کے ساتھ مدینہ کے حاکم اور امت مسلمہ کے قائد بھی تھے ،اسلام اس معاملہ میں خصوصی امتیاز رکھتا ہےاس کی ابتدائی منزل ہی سیاست سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تعلیم دینی و سیاسی زندگی کے ہر پہلو کو حاوی ہے، علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں اور یہ وراثت انہیں دینی مسائل کے ساتھ ساتھ سیاسی مسائل میں بھی حاصل ہے، اس لیے علماء کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب فقہی مقالات میں لکھتے ہیں :موجودہ دور کی گندی سیاست نے الیکشن اور ووٹ کے لفظوں کو اتنا بدنام کردیا ہے کہ ان کے ساتھ مکر و فریب، جھوٹ رشوت اور دغابازی کا تصور لازم ذات ہوکر رہ گیا ہے، اسی لیے اکثر شریف لوگ اس جھنجھٹ میں پڑنے کو مناسب ہی نہیں سمجھتے اور یہ غلط فہمی تو بے حد عام ہے کہ الیکشن اور ووٹوں کی سیاست کا دین و مذہب سے کوئی واسطہ نہیں، یہ غلط فہمی سیدھے سادے لوگوں میں اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، اس کا منشاء اتنا برا نہیں ہے لیکن نتائج بہت برے ہیں، یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ دور کی سیاست بلاشبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے، لیکن جب تک کچھ صاف ستھرے لوگ اسے پاک کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے اس گندگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا، اس لیے عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے چھیننے کی کوشش کی جائے جو مسلسل اسے گندا کررہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے: إن الناس إذا رأوا الظالم فلم یأخذوا علی یدیہ أوشک أن یعمہم اللّہ بعقاب (أبوداوٴد شریف: ۲/۵۹۶) اگر لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب عام نازل فرمائیں، اگر آپ کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ظلم ہورہا ہے اور انتخابات میں حصہ لے کر اس ظلم کو کسی نہ کسی درجہ میں مٹانا آپ کی قدرت میں ہے تو اس حدیث کی رو سے یہ آپ کا فرض ہے کہ خاموش بیٹھنے کے بجائے ظالم کا ہاتھ پکڑکر اس ظلم کو روکنے کی مقدور بھر کوشش کریں۔ (فقہی مقالات ملخصاً: ۲/۲۸۵-۲۸۶) 
۔مفتی تقی عثمانی صاحب کی تحریر بہت واضح ہے کہ علماء اور سنجیدہ فکر اورسماج کی خدمت کرنے والوں کو سیاست میں حصہ لینا چاہیےتاکہ اس کے ذریعہ ظلم کو روکا جاسکے اور مظلوموں کی مدد کی جاسکے۔
جہاں تک اس کا سوال کا تعلق ہے کہ سیاست میں کس طرح آئیں تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ زمینی سطح پر محنت کی جائے، خدمت خلق کے میدان میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا جائے ان شاء اللہ مستقبل میں بہترنتائج سامنے آئیں گے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
answered Nov 4, 2020 by Darul Ifta
...