53 views
السلام علیکم و رحمة الله وبركاته،
1. دین دار مسلمانوں کے گھروں میں جو اٹیچڈ بیت الخلاء ہوتے ہیں کیا وہاں لازما شیاطین بسیرا کرتے ہیں, جبکہ گھر میں آتے جاتے دعا کا اہتمام ہوتا ہو؟
2. گھر میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھنے پر ہمیشہ ساتھ رہنے والا شیطان بھی باہر رک جاتا ہے
3. بیت الخلاء میں کپڑے ٹانگے رکھنےسے کیا شیاطین ان کپڑون پر اور وہاں پڑھے خواتین کے بالوں پر جادو کرتے ہیں؟
4. گھر میں میاں بیوی دونوں دین دار ہیں. بچے بھی حافظ قرآن ہیں. پابندی سے فضائل اعمال کی تعلیم بھی ہوتی ہے اور قرآن پاک کی تلاوت بھی. لیکن میاں بیوی میں نااتفاقی رہتی ہے اور ایک دوسرے کی صورت دیکھنا گوارا نہیں ہوتا. بات بات میں نااتفاقی اور جھگڑا ہوتا. یہ حال تقریبا بیس سال سے ہے. منزل اور سورة بقرہ کی تلاوت کے اہتمام کے باوجود یہ حال ہے. کیا اسکو یقینی جادو یا جنات کا عمل یا نظر بد سمجھا جائے
asked Aug 16, 2020 in طہارت / وضو و غسل by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1084/42-328

الجواب وباللہ التوفیق     

بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ )1(حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قضاء حاجت کی جگہ شیطان کا بسیرا ہوتا ہے اور دعا پڑھ کر بیت الخلاء جانے سے آدمی شیطان کے وساوس سے محفوظ رہتا ہے؛ اس لیے اگرگھر میں اٹیچ بیت الخلاء ہو تو بیت الخلاء میں شیطان کا بسیرا ہوسکتا ہے لیکن اس کا اثر گھر پر نہیں پڑتا ہے اور جولوگ بیت ا لخلاء دعا پڑھ کر جاتے ہیں وہ بھی شیطانی وساوس سے محفوظ رہتے ہیں۔

عن أنس بن مالك أن رسول الله قال: (إن هذه الحشوش محتضرة، فإذا دخلها أحدكم فليقل: اللهم إنى أعوذ بك من الخبث والخبائث) . فأخبر فى هذا الحديث أن الحشوش مواطن للشياطين، فلذلك أمر بالاستعاذة عند دخولها،(شرح صحيح البخاري لابن بطال 10/90)ومن هذا قول رسول الله صلى الله عليه وسلم إن هذه الحشوش محتضرة أي يصاب الناس فيها وقد قيل إن هذا أيضا قول الله - عز وجل - (كل شرب محتضر) القمر 28 أي يصيب منه صاحبه۔1773- مالك عن يحيى بن سعيد أنه قال أسري برسول الله صلى الله عليه وسلم فرأى عفريتا من الجن يطلبه بشعلة من نار كلما التفت رسول الله صلى الله عليه وسلم رآه فقال له جبريل أفلا أعلمك كلمات تقولهن إذا قلتهن طفئت شعلته وخر لفيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بلى فقال جبريل فقل أعوذ بوجه الله الكريم وبكلمات الله التامات اللاتي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وشر ما يعرج فيها وشر ما ذرأ في الأرض وشر ما يخرج منها ومن فتن الليل والنهار ومن طوارق الليل والنهار إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن(الاستذکار8/443)
(2)روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان گھر میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھ لیتا ہے تو اللہ تعالی کے ضمان میں آجاتا ہے اور شیطان کہتا ہے کہ اب  میں تمہارے ساتھ رات نہیں گزار سکتا لیکن جب آدمی  بغیر دعا کے گھر میں داخل ہوتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ رات گزاروں گااس لیے گھر میں داخل ہوتے وقت دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔

وروينا عن أبي أمامة الباهلي، واسمه صدَيُّ بن عَجْلان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ثَلاَثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ على اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: رَجُلٌ خرج غَازِيَاً في سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ ضَامِنٌ على الله عَزَّ وجَلَّ حَتَّى يَتَوفَّاهُ فيدخله الجنة أو يرده بما نال من أجْرٍ وَغَنِيمَةٍ،وَرَجُلٌ رَاحَ إلى المَسْجِد فَهُو ضَامِنٌ على الله تعالى حتَّى يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخلَهُ الجَنَّةَ أو يرده بما نال من أجر وَغَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسلامٍ فَهُوَ ضَامنٌ على اللَّهِ سُبْحانَهُ وتَعَالى " حديث حسن، رواه أبو داود بإسناد حسن، ورواه آخرون.ومعنى " ضامن على الله تعالى ": أي صاحب ضمان، والضمان: الرعاية للشئ، كما يقال: تَامِرٌ، ولاَبنٌ: أي صاحب تمر ولبن.فمعناه: أنه في رعاية الله تعالى، وما أجزل هذه العطية، اللهمَّ ارزقناها.
60 - وروينا عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " إذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعالى عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعامِهِ قالَ الشِّيْطانُ: لا مَبِيتَ لَكُمْ وَلا عَشاءَ، وَإذا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعالى عنْدَ دُخُولِه، قالَ الشَّيْطانُ: أدْرَكْتُمُ المَبِيتَ، وَإذا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعالى عِنْدَ طَعامِهِ قالَ: أدْرَكْتُمُ المَبِيتَ والعَشَاء " رواه مسلم في صحيحه.(کتاب ا لاذکار للنووی ص: 24)
 
(3)بیت الخلاء کے لٹکے کپڑے یا وہاں گرے خواتین کے با لوں پرشیطان کا جادو کرنا کوئی ضروری نہیں ہے؛ بلکہ جو لوگ اس طرح کا عمل کراتے ہیں وہ اس طرح کی چیزوں کو استعمال کرتے ہیں اس لیے کہ بہتر کہ بال وغیرہ کو محفوظ مقام پر دفن کردیا جائے لیکن شیطان کا ان بالوں پر تصرف کرنا کوئی ضروری نہیں ہے اس لیے کہ شیطان ،جنات اس کے بغیر بھی تصرف پر قادر ہوجاتے ہیں ۔ (4)میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی اگر رہتی ہے تو ضروری نہیں کہ یہ جادو کہ ہی کا اثر ہو۔گھر میں حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب ؒ کی منزل اسی طرح معوذتین اور سورہ بقرہ کا اہتمام کریں اگر جادو وغیرہ کا کوئی اثر ہوگا تو زائل ہوجائے گااور اگر اس کے بعد بھی نااتفاقی ختم نہ تو بہتر ہوگا کہ دونوں خاندان کے بزرگ کے سامنے مسئلہ کو پیش کیا جائے وہ حضرات طرفین کی بات کو سن کر جو فیصلہ کریں اس پر دونوں حضرات عمل کریں انشاء اللہ نااتفاقی ختم ہوجائے گی ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 14, 2020 by Darul Ifta
...