63 views
باسمہ تعالیٰ
                                                       حضرات مفتیانِ کرام
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
زیر سوال مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان کے جمہوری نظام میں رہتے ہوئے ربو و سود کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ عام طور پر مسلمان عام ہوں یا خاص بینک کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جس میں ان آفشنس کو بھی استعمال کرتے ہیں جو بغیر سود کے مکمل نہیں ہوتا بعض حالات میں وہ ضروری ہوتا ہے اور بعض دفع اس کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا ہے پھر لوگ بینک کے ان آفشنس کو استعمال کرتے ہیں
شاید میرے سوال کا مقصد واضح ہو گیا ہوگا
برائے مہربانی دلائل کی روشنی میں تشفی بخش جواب دیکر مشکور کریں
والسلام
asked Aug 26, 2020 in ربوٰ وسود/انشورنس by Md M Haque

1 Answer

Ref. No. 1101/42-321

الجواب وباللہ التوفیق     

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  سود کی حرمت مطلق ہے، اس لئے دارالاسلام اور دارالحرب ہرجگہ سود حرام ہے۔ ہندوستان میں بھی حتی الامکان سود سے بچنے  کی کوشش ہونی چاہئے۔ جہاں نہیں بچ سکتے ہیں جیسے بینک میں تو وہاں سود کی رقم بینک سے نکال کر بلا نیت ثواب صدقہ کردینا چاہئے۔

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 8, 2020 by Darul Ifta
...