150 views
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیا اکرام ۔
سوال (۱) زید کا سوال کے کہ کیا کسی مسجد کی وقف عمارت اور زمین پر مدرسہ کھولنا اور چلانا کیا جائز ہے ساتھ میں  مسجد کی بجلی اور پانی کا استعمال کرنا بھی جبکہ مسجد کے قریب ہی مدرسہ کی عمارت موجود ہے اس میں نا چلا کر مسجد کی زمین پر مدرسہ چلا رہے ہیں۔
سوال (۲) زید ایک مسجد میں امامت کرتے ہیں اور سرکاری مدرسہ میں سروس بھی کرتے ہیں  ساتھ ہی ساتھ مسجد سے تنخواہ بھی لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے۔
سوال(۳) مسجد کی خالی پڑی زمین پر مدرسہ عمارت تعمیر کرنا جائز ہے کہ نہیں۔
asked Aug 30, 2020 in مساجد و مدارس by faranjuned

1 Answer

Ref. No. 00000

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (1) مسجد کی وقف شدہ زمین پر بلاکسی معاوضہ کے مدرسہ چلانا درست نہیں ہے۔ (2) زید کا مسجد میں امامت کرنا اور سرکاری مدرسہ میں سروس کرنا دونوں عمل درست ہیں۔ اور مسجد سے تنخواہ لینا بھی جائز ہے۔ (3) مسجد کی خالی  پڑی زمین پر بلامعاوضہ کے مدرسہ کی عمارت  تعمیر کرنا وقف کا غلط استعمال کرنا ہے۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 14, 2020 by Darul Ifta
...