55 views
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان دین متین
  اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا ایک مکان ہے جسکی قیمت 35000000 تین کروڑ پچاس لاکھ ہے۔وہ زید نے اپنے بیٹے شاہد کو فروخت کردیا اور اسکو کہا کہ اس کی قیمت نو جگہ تقسیم کر ے،ایک حصہ زید کا، ایک حصہ شاہد کا اور بقیہ سات  حصے چھ بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم کر دے اور ہر ایک کا حصہ بھی زید نے متعین کردیا اور ایک تحریر لکھوا کر سب بچوں کو اس پر متفق کر لیا۔ بچے بھی بخوشی اتفاق کرتے تھے۔ شاہد نے زید کی زندگی میں دو بھائیوں کو حصہ دے بھی دیا تھا۔ پھر زید کا انتقال ہوگیا۔اب مذکورہ صورت میں بقیہ رقم جو شاہد کے پاس ہے وہ کیا حسب سابق تقسیم ہوگی یا وراثت شمار ہوگی یا حوالہ شمار ہوگی یا دین شمار ہوگی اور جن کو حق مل گیا ہے کیا وہ دستبردار عن الحق بالقبض شمار ہوسکتے ہیں۔رہنمائی فرما کر مشکور فرمائیں۔دلائل درج فرما دیں تو احسان عظیم اور تشفی قلب کا سبب ہوگا۔
asked Sep 14, 2020 in عائلی مسائل by M Zubair

1 Answer

Ref. No. 1141/42-370

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ زید نے چونکہ اپنی زندگی میں مکان فروخت کردیا اور آٹھ بیٹوں اور ایک بیٹی کا حصہ متعین کردیا تھا، اس لئے باپ کے مرنے کے بعد بقیہ رقم ان بیٹوں وبیٹی میں تقسیم کی جائے گی جن کو ان کا حصہ نہیں ملا۔ یہ رقم ترکہ شمار نہ ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 20, 2020 by Darul Ifta
...