74 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کسی مسجد کی تعمیر حرام رقم سے کی گئی ہو اور مسجد کے بیت الخلاء وغیرہ حلال رقم سے بنائے گئے ہوں اور یہ کہا جائے کہ ہم نیت کر لیتے ہیں کہ مسجد حلال رقم سے بنائی گئی ہے اور بیت الخلاء حرام رقم سے، ایسا کہنا کہاں تک صحیح ہے؟
اور کیا حرام رقم سے مسجد بنائی جا سکتی ہے؟
بحوالہ کتب فقہ مطلوب ہے‌۔
asked Sep 19, 2020 in مساجد و مدارس by Najmul Haque

1 Answer

Ref. No. 1150/42-386

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کسی بھی عمل سے قبل نیت کا اعتبار ہے، کام کرلینے کے بعد اس میں نیت معتبر نہیں ہے۔  اس لئے مسجد کو حلال رقم سے تعمیر کی  اب صورت یہ ہوگی کہ جس قدر حرام مال مسجد میں لگایا ہے اتنا حلال مال بلانیت ثواب صدقہ کردیا جائے تو مسجد کی تعمیر حلال مال سے ہوجائے گی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 27, 2020 by Darul Ifta
...