9 views
زحمت دینے کی وجہ یہ ہیکہ میرا نام محمد طلحہ بن محمد الیاس ہے میرا نکاح 9 دسمبر 2005 کو صالحہ بنت تاج الدین سے ہوا تھا لیکن  ہمارے درمیان وہ رشتہ قائم نہ رہ سکا میں نے ہر ممکن کوشش کی اس رشتہ کو قائم رکھنے کی لیکن  محترمہ نے میری کسی قسم کی قربانی کی قدر نہیں کی اس لئے میں نے لا محالہ تقریبا رات کے 9 بجے 14 ستمبر 2019 کو محترمہ کو فون کال کے ذریعہ تین طلاق (طلاق مغلظہ دے دی) اور طلاق دینے کے دوگھنٹے کے اندر میں نے دوسرا نکاح بھی کر لیا میرا جن سے دوسرا نکاح ہوا ہے وہ میر ی مطلقہ زوجہ کی بڑی بہن کی بیٹی ہے ان کا نام وریشہ ہے نکاح کے وقت وریشہ کی عمر 18 سال 5 ماہ تھی لیکن میرے والدین اس نکاح کو غیر شرعی کہتے والدین کا کہنا ہے کہ میر ا نکاح وریشہ سے نہیں ہوا ہے، جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے میرا نکاح وریشہ سے ہوا کہ نہیں ہوا
asked Sep 21 in طلاق و تفریق by Mohammad Talha

1 Answer

Ref. No. 1155/42-392

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ کی پہلی بیوی کو طلاق ہوجانے کے بعد عدت گزارنا لازم ہے، اور دوران عدت سالی سے یا سالی کی بیٹی سے نکاح درست نہیں ہے۔ اس لئے آپ کا دوسرا نکاح وریشہ سے پہلی بیوی کی عدت کے دوران   از روئے شرع درست نہیں ہوا ہے۔ عدت گزرگئی ہو تو   اب آپ دوبارہ نکاح کرلیں۔  نکاح درست ہوجائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 26 by Darul Ifta
...