8 views
السلام علیکم و رحمة الله وبركاته، ایک خاتون نے اپنا خود کا پیسہ تجارے میں شراکت داری میں لگایا. شوہر کہ رہا ہیکہ وہ پیسے واپس لو اور کسی اور تجارت میں لگاؤ جبکہ خاتون اسپر راضی نہیں ہیں.. (1) کیا عورت کو شوہر کی سننا ضروری ہے اور کیا شوہر کو اسطرح کہنے کا حق ہے. (2) جہاں خاتون نے پیسہ لگایا کیا انپر ضروری ہے کے شوہر کو پیسے واپس کریں جبکہ خاتون سے معملہ داری ہوئ اور خاتون نے پیسے واپس کرنے نہیں کہا  (3) شوہر کہہ رہے ہیں کے وہ پیسے واپس لو اور گھر میں کوئ تجارت کرو اور اپنا گزر بسر کرو اور خاتون کا کہنا ہے کے وہ تجارت خود کرنے کے قائل نہیں جبکہ جہاں پیسہ لگائے وہاں سےضرورت کے بقدر آمدنی ہورہی ہے. شوہر اسکو نافرمانی میں شمار کررہے ہیں. شرعا کیا یہ شوہر کی نافرمانی شمار ہوگی.
asked Sep 23 in تجارت و ملازمت by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1162/42-397

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر شوہر عورت کا  نان و نفقہ برداشت کرتا ہو تو عورت کے لئے تجارت کرنا امر مباح ہے، جس میں شوہر کی اجازت ضروری ہے۔ سوال مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر عورت کو تجارت کی اجازت دے رہا ہے، تاہم تجارت کی نوعیت میں اختلاف ہورہاہے۔ اور عورت جس صورت کو اختیار کررہی ہے بظاہر اس میں عورت کو خود تجارت نہیں کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی اس میں شوہر کے  حقوق فوت ہورہے ہیں، اور چونکہ مال عورت کا ہے اس لئے  رائے بھی اسی کی ہو گی؛ لہذا عورت ایساک کرنے میں نافرمان شمار نہیں ہوگی۔ تاہم ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عورت شوہر کو اپنے مفادات سے قائل کرالے یا پھر شوہر کی ہی اطاعت کرے، خواہ اس میں کچھ نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

ولہ ان یمنعھا من الاعمال کلھا المقتضیۃ للکسب لانھا مستغنیۃ عنہ، بوجوب کفایتھا علیہ وکذا من العمل تبرعا (البحرالرائق)، وحقہ علیھا ان نطیعہ فی کل مباح یامرھا بہ (ردالمحتار)۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 27 by Darul Ifta
...