74 views
کیافرماتے ہیں درج ذیل مسائل کے بارے میں مفتیان کرام
زیدکو کلما کی قسم کاوسوسہ رہتاہے حالانکہ زید کو ایک بار بھی یاد نہی کہ اسنے زبان سے کلما کی قسم صریح لفظومیں کھای ہو لیکن شیطان کہتاہے کہ تونے زبان سے کھای ہے توکیا زیدمحض وسوسو کی بنیادپر فضولی نکاح کرسکتاہے،
۲کیاکلما کے علاوہ کنای الفاظ سے بھی کلما کی قسم واقع ہوجائیگی مثال کےطورپر زیدنےکہا کہ میں فلا شخص کے ساتہ کبھی بہی کہی نہی جاونگااور اس سے کلما کی قسم کی نیت کرے یعنی طلاق ثلاثه كي پهر وه اسكے ساته چلاجاےتوكيا زيد كے فلاشخص كے ساته جانیکی صورت میں قسم ٹوٹ جائیگی، یاقسم منعقدہی نہی ہوی  یااسی طرح زیدکچہ لکھے اور اس اسے کلما کی قسم کی نیت کرے تواسکے بارے میں کیاحکم ہے
۳اگرکولفظ کلما کی قسم کھاے کسی کام کے ناکرنیکے بارے میں پھراسےکرلےتواسکےبارے میں کیاحکم ہے
۴وسوسےبچنےکےلئےبھی کوی وظیفہ بتادیں
asked Oct 29, 2020 in طلاق و تفریق by Mohd.khizar

1 Answer

Ref. No. 1191/42-476

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  (1) محض وسوسہ کی وجہ سے نہ تو کلما کی قسم واقع ہوتی ہے اور نہ ہی طلاق واقع ہوتی ہے وسوسے کی بنا پر کوئی حکم نہیں لگتا ہے اس لیے فضولی والے نکاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے (2) کلما کے علاوہ الفاظ سے بھی طلاق کی قسم منعقد ہو جاتی ہے لیکن جو مثال ذکر کی ہے کہ میں فلاں کے ساتھ نہیں جاؤں گا اس سے قسم منعقد نہیں ہوگی اور نہ ہی طلاق واقع ہوگی (3)  سوال واضح نہیں ہے، مکمل کلما کے الفاظ کے ساتھ قسم کی وضاحت کر کے معلوم کر لیں (4) وسوسے کا علاج یہ ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ دی جائے اور درود شریف کی کثرت کے ساتھ یہ دعا پڑھیں: اللھم انی اعوذ بک من ھمزات الشیاطین واعوذ بک ربی ان یحضرون۔

قال الليث الوسوسه حديث النفس وانما قيل موسوس لانه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس (رد المحتار4/224) ان الله تجاوز عن امتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل بها او تتكلم بها (مشکوۃ ص18)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Nov 2, 2020 by Darul Ifta
...