45 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ.
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مذکورہ مسئلہ کے بارے میں.
زید عمرو کے ساتھ ڈالر کا معاملہ اس طور پر کرتا ہے کہ ڈالر کی موجودہ بازاری قیمت ۱۶۲ روپے ہے.  زید نے عمرو سے کہا کہ آپ مجھے ڈالر ۱۷۰ پاکستانی روپیہ کے عوض ایک مہینہ کی مدت تک ادھار دے.
کیا اس طرح معاملہ کرنا شرعا درست ہے یا نہیں؟
اگر درست نہیں تو اس کا متبادل اور صحیح طریقہ کیا ہے؟
asked Dec 10, 2020 in ربوٰ وسود/انشورنس by حکمت اللہ

1 Answer

Ref. No. 1231/543

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مذکورہ معاملہ سودی ہے، اور ناجائز ہے۔ اگر  معاملہ اس طرح کیاجائے کہ ڈالر ابھی دیدیاجائے اور ایک ماہ کے بعد آج کی مارکیٹ کے حساب سے قرض کی ادائیگی کرنی ہو، یا یہ طے کرلیا جائے کہ ایک ماہ کے بعد کرنسی کا مارکیٹ میں جو ریٹ ہوگا وہ ادا کرنا ہوگا تو درست ہے۔ مگر یہ طے کرلینا کہ ایک ماہ کے بعد ڈالر کی قیمت بڑھے یا گھٹے آپ کو 170 کے حساب سے ہی دینا ہوگا یہ سودی معاملہ ہے اور سودی معاملہ حرام ہے۔

قال اللہ تعالی واحل اللہ البیع وحرم الربوا (سورۃ البقرہ 275)۔

وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء، لعدم العلة المحرمة والأصل فيه الإباحة. وإذا وجدا. حرم التفاضل والنساء لوجود العلة. وإذا وجد أحدهما وعدم الآخر حل التفاضل وحرم النساء (الھدایۃ، باب الربا،3/61)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Dec 15, 2020 by Darul Ifta
...