68 views
میرے شوھر نے شرط عائد کی تھی کہ اگر میں اپنی بہن سے ملی یا بھن مجھے ملی تو طلاق طلاق طلاق. اگر میں نے بہن سے رابطہ کیا یا بہن نے مجھ سے رابطہ کیا تو طلاق پھر تین دفعہ کہااس نےاگر بہن آئی میری طرف یا میں گئ تو اسی طرح تین دفعہ کہا ، اور بھی بہت سی باتوں پر اسی طرح کہا، تو بعد میں اپنے علاقے کے مفتی صاحب کے کہنے پر لفظ آذاد ہو سے اس نے مجھ طلاق بائن دی، عدت گزرنے کے بعد باقی شرائط تو پوری کی بہن نے مجھے فون کیا میں نے بہن کو کیا مگر اس وقت میں بہن سے نہیں ملی، آنا جانا نہیں ہوا اور نکاح ہو گیا، میری بہن اس نکاح کے سال بعد آئ اور مجھے ملی اور میں اس سال کراچی ان کے گھر گئ. تو پوچھنا یہ ھے کہ اب دوبارہ مجھے طلاق ہو گئ ہے. اس وقت صرف وہ تھا اور میں، مجھے یہ بات پریشان کرتی رہی مگر اسے نہیں یا د، کسی بھی قسم کا، جبکہ جھگڑا میری بہن کے میرے گھر آنے پر ہی ہوا تھا.
asked Dec 19, 2020 in طلاق و تفریق by Niaz Gul

1 Answer

Ref. No. 1238/42-553

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جب شوہر نے طلاق کو کسی شرط پر معلق کردیا تو اب رجوع کی کوئی شکل نہیں ۔ جب بھی شرط پائی جائے گی، طلاق واقع ہوگی۔ اب مذکورہ شرط اس وقت پائی گئی جب آپ طلاق کا محل نہیں تھیں  اس لئے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لیکن جو دیگر شرطیں شوہر نے لگائی تھیں اور آپ نے ان کو پورا نہیں کیا اور اب جبکہ نکاح ہوگیا تب پورا کیا جیسے کہ بہن سے ملاقات کرنا تو اب اس سے طلاق واقع ہوجائے گی۔

وان قال لھا ان کلمت اباعمرو وابایوسف فانت طالق ثلاثا ثم طلقھا واحدۃ فبانت وانقضت عدتھا فکلمت ابا عمرو ثم تزوجھا فکلمت ابا یوسف فھی طالق ثلثا مع الواحدۃ الاولی (ہدایہ ۲/۳۸۸، دارالکتاب دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Dec 26, 2020 by Darul Ifta
...