19 views
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ..
محترم جناب مفتی صاحب..
میرا سوال یہ ہے کہ میرے بڑے ابا کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی اہلیہ کا بھی اور ان کی وراثت میں کل اٹھائیس لاکھ روپے ہے اور وارث میں چار بیٹیاں ہیں اور دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک  بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے بڑے ابو کے انتقال کے بعد اور اس بیٹےکی بیوی اور چار بچے موجود ہے تو برائے مہربانی بتائیں کہ ان میں کس طرح میراث تقسیم ہوگی اور کتنے حصہ کئیے جائیں گے... عین نوازش ہوگی فقط والسلام..
asked Jan 12 in فقہ by Rafiuddin Shaikh

1 Answer

Ref. No. 1262/42-605

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   بشرط صحت سوال مذکورہ صورت میں والدین کی کل جائداد  کو آٹھ حصوں میں تقسیم کریں گے۔ ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔ اگر ترکہ میں کل اٹھائیس لاکھ  روپئے ہی صرف ہیں تو اس طرح تقسیم کریں کہ ہر ایک بیٹے کو سات لاکھ روپئے اور ہر ایک بیٹی کو تین لاکھ پچاس ہزار روپئے دیدئے جائیں۔ جس بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے اس کا حصہ  (سات لاکھ) اس کی بیوی اور اولاد میں تقسیم کریں گے۔ مرحوم بیٹے کے حصہ میں سے آٹھواں حصہ اس کی بیوی کودینے کے بعد  بقیہ مال اس کی اولاد میں اس طرح تقسیم کریں  کہ لڑکوں کو دوہرا اور لڑکیوں کو اکہرا حصہ ملے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jan 21 by Darul Ifta
...