11 views
اسلام و علیکم! میرے والد صاحب کچھ دن علیل رہنے کے بعد وفات پا گئے میں انھیں علاج کی غرض سے اسلام آباد پمز ہسپتال لے کر گیا تھا، ان کی وفات کے بعد بار بار میرے دل میں وسوسے آتے کہ کاش میں ان کو ایم ایچ لے جاتا وہاں علاج معالجہ کی سہولیات پمز سے بہتر ہوتی تو شاید میرے والد صاحب بچ جاتے،ان کی وفات کے بعد یہ ہی وسوسہ میرے دل و دماغ سے چپکا ہوا کہ مجھ سے ان کے علاج میں کوتاہی ہوئی شاید اسی لئے میرے والد صاحب فوت ہوئے، ازراہ کرم اس بارے رہنمائی فرما دیں۔
جزاک اللہ
asked Jan 21 in متفرقات by رانا صفدر حسین

1 Answer

Ref. No. 1274/42-633

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   موت کا ایک وقت متعین ہے، اور انسان اپنی تقدیر کے اردگرد گھومتا ہے، جو تقدیر کا فیصلہ ہے خواہی نہ خواہی انسان اس کو کرکے ہی رہتاہے، اس لئے جو کچھ آپ سے ہوا وہ تقدیر کا نوشتہ تھا، اب اپنے دل کو بوجھل نہ کریں، فوری طور پر آپ جہاں لے گئے ، اگر شفا مقدر ہوتی تو وہیں ان کو آرام  مل جاتا، لیکن موت کا متعینہ وقت آچکا تھا تو وہ ٹل نہیں سکتا تھا اور کوئی ماہر ڈاکٹر بھی ان کو زندگی نہیں دے سکتا تھا۔ اس لئے آپ اب ان کے لئے ایصال ثواب کرتے رہیں اور اس طرح کے شیطانی وسوسوں کے شکنجہ سے بچیں۔ اللہ تعالی آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

المؤمن القويّ خيرٌ وأحبُّ إلى اللهِ من المؤمنِ الضعيفِ وفي كل خيرٌ احرِصْ على ما ينفعكَ واستعنْ باللهِ ولا تعجزْ فإن فاتكَ شيء فقلْ قدر اللهُ وما شاءَ فعلَ وإيّاكَ ولَوْ فإن لَوْ تفتحُ عملَ الشيطانِ۔

الصفحة أو الرقم: 1/237 | التخريج : أخرجه مسلم (2664)، وابن ماجه (4168)، وأحمد (8777)، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (10457) باختلاف يسير، والطحاوي في ((شرح مشكل الآثار)) (262) واللفظ له.

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 1 by Darul Ifta
...