32 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میں امید کرتا ہوں کہ حضرت اپ بخیر وعافیت ہونگے
حضرت مسٔلہ یہ پوچھنا ہے کہ ہمارے علاقہ میں میت کے مرنے کے بعد اجتماعی دعا کیجاتی ہے جس میں ایک ادمی الفاظ دعائیہ کہتے ہے اور باقی سب آمین آمین کہتے ہیں لیکن اس کی دو صورتیں ہیں(۱) نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا ( ۲)دفن و تدفین کے بعد دعا کرنا
براۓ مہربانی حضرت اپ دونوں صورتوں کی قرآن وحدیث اور فقہ کی روشنی میں مکمل وضاحت کردیجئے
عین و نوازش ہوگی
الملتمس : امداد الاسلام آسامی
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
asked Jan 21 in بدعات و منکرات by Rahimuddin

1 Answer

Ref. No. 1273/42-624

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   (1) جنازہ کی نماز خود دعا ہے اور اس میں میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ہی اصل ہے، جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا قرآن وسنت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ہے، اس لیے اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع اور بدعت ہے، ہاں انفرادی طور پر ہاتھ اٹھائے بغیر دل ہی دل میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

(2) میت کو دفن کرنے کے بعد دعا کرنا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، لہذا  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی  پیروی کرتے ہوئے  قبر کے پاس کھڑے ہوکردعا کرنا جائز ہے۔

''ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة؛ لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة'' (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 149) "لايقوم بالدعاء في قراءة القرآن لأجل الميت بعد صلاة الجنازة". (خلاصة الفتاوي،كتاب الصلاة، الفصل الخامس و العشرون في الجنائز، 1/225، ط: رشيدية) ’’عن ابن مسعود قال: والله لكأني أرى رسول الله في غزوة تبوك، وهو في قبر عبد الله ذي البجادين وأبو بكر وعمر، يقول: أدنيا مني أخاكما، وأخذه من قبل القبلة حتى أسنده في لحده، ثم خرج رسول الله وولاهما العمل، فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعاً يديه يقول: اللّٰهم إني أمسيت عنه راضياً فارض عنه، وكان ذلك ليلاً، فوالله لقد رأيتني ولوددت أني مكانه‘‘ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 5/452)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jan 28 by Darul Ifta
...