19 views
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ۔مفتیان کرام۔ مندرجہ زیل مسئلے  کے بارےمیں۔
 تین بھاءی ہیں ۔جنمیں دوبھائ بڑےہیں۔جنہوں نے گھر کے اخراجات کیسا تھ  تقریبا پانچ بگھہ زمین بھی خریداہے۔نیزچھوٹےبھائ کی تعلیم میں بھی تقریبا چار لاکھ روپے  صرف ہوے ہیں ۔
   اب پانچ بگھہ زمین  جو خریداری  ہوئ ہے والد کے نام رجسٹری ہو ئ ہے ۔اسمیں چھوٹے  بھائ بھی ایک تہائ حصہ کاحقدار بننا چاہتے ہین ۔حالانکہ نہ تووہ موروثی ہے نہ چھوٹے بھائ کا ایک روپیہ لگا ہے۔
  ازروئے شرع بتائیں ۔کہ چھوٹےبھائ کازمین میں حصہ مانگنا درست ہے؟    
       بینو وتوجرو
              فقط والسلام
asked Jan 30 in احکام میت / وراثت و وصیت by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1292/42-663

الجواب وباللہ التوفیق                                          

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    اگر دونوں لڑکے پیسے کماکر باپ کو بھیجتے ہیں، تو گویا وہ باپ کو ہبہ کردیتے ہیں ، اب باپ اپنی مرضی سے اپنی صوابدید پر زمین خریدتاہے ، مکان بناتا  ہے، یا گھر کا خرچ چلاتاہے۔ ایسی صورت میں والد نے جوزمین خرید کر اپنے نام کرائی تویہ اس کی ملکیت شمار ہوگی اس میں وراثت جاری ہوگی اور اس میں سب بیٹےبرابر شریک ہوں گے، لیکن اگر ان دونوں  بیٹوں نے کماکر جو زمین خریدی والد کو  اس کا مالک نہیں بنایا بلکہ صرف ان کا نام کاغذ میں ڈالدیا تھا تو اس میں چھوٹے بھائی کا حصہ نہیں ہوگا۔  تاہم دونوں صورتوں میں چھوٹے بھائی کی پڑھائی وغیرہ میں جو کچھ خرچ ہوا وہ سب تبرع سمجھاجائےگا،اس کا کسی حساب میں شمار نہ ہوگا ۔

وکذا لو اجتمع اخوۃ یعملون فی ترکۃ ابیھم ونمی المال فھو بینھم سویۃ ولو اختلفوا فی العمل والرائ (شامی3/383) الاب وابنہ یکتسبان  فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لھما شیئ فالکسب کلہ للاب ان کان الابن فی عیالہ (شامی 6/392، کتاب الشرکۃ،الشرکۃ الفاسدۃ) الااذاکان لھاکسب علی حدۃ فھو لھاکذافی القنیۃ (الھندیۃ، کتاب الشرکۃ 2/329) (مشترکہ وجداگانہ خاندانی نظام، ایفا پبلی کیشنز، دہلی  ص128)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 9 by Darul Ifta
...