20 views
ہم تین لوگوں نے شرکت میں ایک کام شروع کیا۔ کلیم، عارف، اسعد نے ایک ایک لاکھ روپئے جمع کئے اور اسعد کو ذمہ داری دی کہ آپ ان پیسوں سے مکان خرید کر کرایہ پر دیں اور کرایہ  تینوں میں برابر تقسیم ہوگا، اسعد نے اپنی صوابدید پر ایک مکان ایسا لیا جس میں تہہ خانہ کی جگہ خالی تھی۔ چونکہ مکان کونسا لینا ہے اور کس سے بات کرنی ہے اور کرایہ وصول کرنا ہے، رجسٹری کرانی ہے وغیرہ اس سلسلہ میں بھاگ دوڑ اسعد ہی کو کرنی ہے تو کلیم وعارف نے کہا کہ  آپ تہہ خانے میں اپنے پیسے سے کمرے بناکر کرایہ پر دیدیں اور کرایہ خود رکھیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تہہ خانے کا بجلی بل، پانی بل، ٹیکس وغیرہ سب اسعد کے ذمہ ہی رہے گا۔ یہ سب شروع میں کاغذ پر لکھ کر طے ہوجاتاہے۔اس میں کسی طرح سے نزاع کا اندیشہ مستقبل میں نہیں ہوتا ہے۔ کیا یہ معاملہ درست ہے؟ کلیم، امریکہ
asked Feb 6 in تجارت و ملازمت by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1296/42-652

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مشترکہ پیسے سے خریدے گئے مکان کے تہہ خانے کو بنانے میں اسعد نے اپنی جیب سے دونوں شریکوں کی رضامندی سے پیسے لگائے ، اور اسعد ہی چونکہ مکان کی خریداری وکرایہ داری وغیرہ کے تمام معاملات کا نگراں تھا اس لئے دونوں شریکوں نے تہہ خانے  کےتمام معاملات کی ذمہ داری  اسعد کے حوالہ کردی۔ لہذا جب تہہ خانہ اپنی جیب سے بنانے اور اس کا کرایہ خود وصول کرنے اور ٹیکس وغیرہ  خودادا کرنے پر دونوں شرکاء رضامند ہیں تو  مذکورہ معاملہ درست ہے۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 6 by Darul Ifta
...