16 views
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته، میری اور بھائ کی کسی موضوع پر واٹ ساب پر لکھت میں بات ہورہی تھی. دوران بات چیت، مین  نے لکھا کے "احادیث میں ہے کے انسان جو گمان کرتا الله وہی حالات بناتے، زبان کو خراب رکھ کے جو جو الفاظ  بولتے وہ ہوتا بھی ویسے" ، تو بھائ نے جوابا لکھا کے " تم نام نیں لینا اللہ رسول کا میرے سامنے"، اسکے بعد پھر مزید  لکھا کے "  تماری زبان سے نکلا تو بھی میں نیں سنتا". حالات کی سنگینی کو دیکھکر میں مزید لکھنا چھوڑ دیا. مجھے گمان ہورہا ہے کے شائد بھائ نے کفریہ کلمات کہہ دئے. کیا توبہ اور تجدید نکاح ضروری ہے. اس سلسلہ میں رہنمائ فرمائیں اور کیا طریقہ کار ہو وہ بھی لکھیں. الله پاک آپ حضرات کو جزاء خیر عطاء فرمائے رہنمائ کیلئے
asked Feb 22 in اسلامی عقائد by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1327/42-705

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ظاہر یہ ہے کہ بھائی نے مذکورہ جملہ معاذ اللہ اللہ و رسول کی توہین کے لئے نہیں کہا ہے، اس لئے اس صورت میں  کفر لازم نہیں آیا، مذکورہ جملہ کہتے وقت اس کے دل میں کیا بات تھی وہی جانتا ہے۔ اس لئے اگر اس نے ایسا بطور توہین کے کہا ہو تو تجدید نکاح وتجدید ایمان ضروری ہے۔ اور اگر ایسا اس کے منھ سے نکل گیا تھا تو توبہ واستغفار کرے۔ اللہ نفس کے شر سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔آمین۔

فالقائل لمن يأمر بالمعروف: أنت فضولي يخشى عليه الكفر فتح. (قوله: يخشى عليه الكفر) ؛ لأن الأمر بالمعروف وكذا النهي عن المنكر مما يعني كل مسلم، وإنما لم يكفر لاحتمال أنه لم يرد أن هذا فضول لا خير فيه بل أراد أن أمرك لا يؤثر أو نحو ذلك (شامی 5/106)
واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 27 by Darul Ifta
...