19 views
مقتدی کا صف درست کرنا فرض ہے؟ صفوں کے بیچ میں خالی جگہیں ہوتی ہیں لوگ اس کو پر نہٰں کرتے۔ بعض امام بالکل کچھ نہیں بولتے۔ کیا یہ امام کی ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگوں کی صف پہلے درست کرے پھر نماز شروع کرے؟ امام لوگ اس پر بالکل توجہ نہیں دیتے۔ سعودی میں شاید ہر نماز میں کہتے ہیں کہ صفیں درست کرلیں تو یہان انڈیا میں بھی اس کو کرنا چاہیئےیا نہیں یا کیا وجہ ہے؟
asked Feb 23 in نماز / جمعہ و عیدین by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1328/42-707

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صفوں کی درستگی سنت مؤکدہ ہے،  اور صفوں کی درستگی کا اہتمام نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہیں۔ اس لئے  یہ مقتدیوں کی ذمہ داری ہے کہ صف سیدھی کریں اور  صفوں کے بیچ میں خالی جگہیں پُر کریں۔ اور امام کو بیچ میں رکھیں، اگر کسی صف میں دائیں جانب کم لوگ ہوں تو آنے والا دائیں جانب صف میں کھڑا ہو تاکہ امام درمیان میں ہو اور دونوں جانب صف برابر ہوجائے۔ امام کو چاہئے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے مقتدیوں کی صف کا معائنہ کرکے ان کو درست کرائے لیکن یہ امام کے ذمہ لازم نہیں ہے، اگر اس کا اہتمام کرے تو بہتر ہے۔  نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام مقتدیوں کی صفوں کو درست کرانے کا اہتمام  کرتے تھے۔

قَالَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - «لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ». وكان في زمن عمر رضي الله تعالى عنه رجلٌ مُوَكَّلٌ على التسوية، كان يمشي بين الصفوف ويسوِّيهم، وهو واجبٌ عندنا تُكْرَه الصلاة بتركه تحريمًا، وسنةٌ عند الشافعية لانتفاء مرتبة الواجب عندهم، وذهب ابن حَزْم إلى أنه فرضٌ. (فیض الباری علی صحیح البخاری ، باب تسویۃ الصفوف 2/299) عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ». (فیض الباری 2/301)

قَالَ عليه السلام: (لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ) . / 95 - وفيه: أَنَسِ، قَالَ الرسول: (أَقِيمُوا الصُّفُوفَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ من وراء ظَهْرِي) . تسوية الصفوف من سنة الصلاة عند العلماء، وإنه ينبغى للإمام تعاهد ذلك من الناس، وينبغى للناس تعاهد ذلك من أنفسهم، وقد كان لعمر وعثمان رجال يوكلونهم بتسوية الصفوف، فإذا استوت كبرا إلا أنه إن لم يقيموا صفوفهم لم تبطل بذلك صلاتهم. وفيه: الوعيد على ترك التسوية، (شرح البخاری لابن بطال، باب تسویۃ الصفوف 2/344)

قلت: قوله - صلى الله عليه وسلم -: تراصوا، وقوله: رصوا صفوفكم، وقوله: سدوا الخلل، ولا تذروا فرجات للشيطان، وقول النعمان بن بشير: فرأيت الرجل يلزق كعبه بكعب صاحبه الخ، وقول أنس: وكان أحدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه الخ، كل ذلك يدل دلالة واضحة على أن المراد باقامة الصف وتسويته أنما هو اعتدال القائمين على سمت واحد وسد الخلل والفرج في الصف بإلزاق المنكب بالمنكب والقدم بالقدم، وعلى أن الصحابة في زمنه - صلى الله عليه وسلم - كانوا يفعلون ذلك، وأن العمل برص الصف والزاق القدم بالقدم وسد الخلل كان في الصدر الأول من الصحابة وتبعهم، ثم تهاون الناس به.(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، الفصل الاول 4/5)

أي يصفهم الإمام بأن يأمرهم بذلك. قال الشمني: وينبغي أن يأمرهم بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا مناكبهم ويقف وسطا (شامی، باب الامامۃ 1/568)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 27 by Darul Ifta
...