21 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص لوگوں سے مضاربت کے طور پر پیسے لیتا ہے اور پیسہ لگانے والون کا تیس پرسینٹ ہوتا ہے اب ایک شخص اسکو ایک لاکھ روپے دیکر کہتا ہے کہ مجھے پندرہ پرسینٹ دے دینا اور جو پندرہ میں نے چھوڑے ہیں ان میں سے نقصان کی بھرپائی کرلینا میں جو پندرہ لوں گا اس میں سے نقصان کی ادائیگی نہیں ہوگی
کیا اس طرح کی شرط لگاکر کاروبار کرسکتے ہیں؟
asked Feb 25 in تجارت و ملازمت by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1335/42-722

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اس طرح کی شرط بھی مقتضائے عقد کے خلاف ہے۔ اگر کسی وقت بالکل فائدہ نہ ہوا تو کام کرنے والا پندرہ فیصد فائدہ آپ کو کہاں سے دے گا۔ کوئی بھی متعین فائدہ خاص کرلینا مضاربت میں درست نہیں ہے۔

(وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد. ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة۔ (شامی، کتاب المضاربۃ 5/648)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Mar 2 by Darul Ifta
...