28 views
حدیث انت و مالک لابیک کا تفصیلی مفہوم مطلوب ہے۔ باپ کو کن کن چیزوں پر اختیار ہے۔ کیا وہ بیٹے کی مرضی کے بغیر اس کا مال لے کر استعمال کرسکتا ہے یا کیس کو دے بھی سکتا ہے؟ کیا ماں بھی اس حکم میں شامل ہے۔ ماں باپ اگر کسی بیٹے سے اسکی ذاتی پراپرٹی دوسرے بیٹے کو دینے کے لئے مجبور کریں تو یہ والدین کو یہ اختیار حاصل ہے؟ ؟
asked Feb 26 in عائلی مسائل by Rahimuddin

1 Answer

Ref. No. 1339/42-719

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ یہ حدیث والد کے نفقہ کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ والد اگر ضرورتمند ہو تو وہ اپنے بیٹے کے مال میں بقدر ضرورت بلا اجازت استعمال کرسکتاہے۔ لیکن اس کے علاوہ وہ بیٹے کی جملہ پراپرٹی کا مالک نہیں ہے اور بیٹے کی اجازت کے بغیر اس کا مال استعمال کرنا کسی کو ہبہ کرنا یا کسی  دوسرے بیٹے کو دینے کے لئے مجبور کرنا یا زبردستی دیددینا جائز نہیں ہے۔ ضرورت کی حد تک ماں بھی اسی حکم میں شامل ہے، وہ بھی بقدرضرورت بیٹے کا مال خود کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔

عَن أبي هُرَيْرَة ... كل أحد أَحَق بِمَالِه من وَالِده وَولده وَالنَّاس أَجْمَعِينَ) لَايناقضه "أَنْت وَمَالك لأَبِيك"؛ لِأَن مَعْنَاهُ إِذا احْتَاجَ لمَاله أَخذه، لَا أَنه يُبَاح لَهُ مَاله مُطلقًا". (التيسير بشرح الجامع الصغير 2/ 210) "وفي حديث جابر: أنت ومالك لأبيك. قال ابن رسلان: اللام للإباحة لا للتمليك، لأنّ مال الولد له وزكاته عليه وهو موروث عنه، انتهى". (شرح سنن الترمذي 20/ 262)
 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 2 by Darul Ifta
...