13 views
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
ہم پانچ بہنیں اور دو بھائ ہیں. والد کا انتقال ہوچکا. والدہ  بقید حیات ہیں. ہم بہنیں بڑی ہیں عمر میں اور دو بھائ چھوٹے ہیں ہم سے. سبکی شادی ہوچکی اور بہنیں اپنے شوہروں کے گھر ہیں. والدہ بھائ کے گھر رہتی ہیں اور گویا بھائ کے ہی زیر کنٹرول ہیں. ہم بہنوں کے بلانے پر بھی ہمارے گھر نہیں رہتیں، بس آکر میل ملاقات کرکے چلی جاتیں. خود بھائ بھی والدہ کو رہنے کیلئے جانے نہیں دیتا. اسطرح کا کنٹرول والدہ پر جائز ہے کیا؟. کیا یہ بہنوں کی حق تلفی میں شمار نہیں ہوگا، کے بیٹیاں بھی چاہتی ہیں کے والدہ انکے گھر رہے؟ کیا والدہ کا رویہ بہنوں کیساتھ شرعا درست ہے؟. مہربانی فرماکر ان استفسارات کا جواب مرحمت فرمائیں. جزاکم الله خیرا
asked Mar 7 in عائلی مسائل by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1352/42-752

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ماں کو مکمل اختیار ہے کہ وہ جس بیٹے  کے ساتھ رہنا چاہے رہ سکتی ہے۔ بیٹیاں اپنے سسرال میں زبردستی اپنی والدہ کو رکھنے کی مجاز نہیں ہے۔ اور ماں کا اس طرح رویہ اختیار کرنا کسی مصلحت کی بنیاد پر ہوسکتاہے۔ نیز ہمارے معاشرہ میں ساس کا اپنے داماد کے گھر زیادہ دن رہنا پسند نہیں کیاجاتاہے۔ ہوسکتاہے ماں  کا یہ رویہ اسی وجہ سے ہو۔ ماں کی خدمت کے لئے اگر شوہر کی اجازت ہو تو ماں کے پاس کبھی کبھی چلی جائیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 11 by Darul Ifta
...