26 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے یہاں مسجد میں ایک شخص بچوں کو پڑھاتا ہے نہ وہ امام ہے نہ مؤذن صرف بچوں کو پڑھاتا ہے
 بچے دو تین سال کے بھی ہوتے ہیں
اکثر وہ صاحب چھٹی سے پہلے کلمے کہلواتے ہیں بچوں سے اور بچے بہت زور زور سے بولتے ہیں اسی طرح عصر کی نماز عصر کی اذان کے بعد بچوں کی الگ سے کراتے ہیں اس نماز میں بھی بچے زور زور سے بولتے ہیں انکی آواز مسجد میں خوب گونجتی ہے
حالانکہ اذان کے بعد نمازی آنا شروع ہو جاتے ہیں
انکو کہ بھی دیا کہ ان بچوں کی نماز اذان سے پہلے کرادیا کریں مگر وہ پھر بھی نہیں کراتے
کیا انکا یہ عمل درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں
asked Mar 11 in مساجد و مدارس by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1363/42-760

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بچوں کو سکھانے کے لئے ان کو بآواز بلند کلمے کہلوانا اور نماز واذان زور سے کہلوانا درست ہے۔ البتہ نماز کے اوقات  میں اس کو موقوف کردینا چاہئے تاکہ نمازیوں کو خلل نہ ہو۔ اذان سے پہلے اس کو بند کردیا جائے تاکہ لوگوں کو سنت وغیرہ پڑھنے میں کوئی حرج نہ ہو۔

لأن المسجد مابنی إلا لہا من صلاة واعتکاف وذکر شرعی وتعلیم علم وتعلمہ وقراء ة قرآن (البحرالرائق: ۲/۶۰، ط: زکریا، دیوبند) تعلیم الصبیان فی المسجد لا بأس بہ (ردالمحتار: ۹/۶۱۳، ط: زکریا، دیوبند(

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 15 by Darul Ifta
...