14 views
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
ایک شخص کے چہار بیویاں ہے اور وہ شخص ان میں سے ایک بیوی سے کہے کے مجھپر تمھارے  گھر انے پر پابندی نہ لگاؤ جب چاہونگا آؤنگا اور رویہ یہ ہے کے دس پندرہ دن تک پھٹک کر نہیں دیکھتے نہ ہی فون پر بات کرتے اور بلانے پر ڈانٹ ڈپٹ اور ڈرانا دھمکانا شروع کرتے، کیا ایسی حالت میں بیوی قلعہ مانگے تو کیا اسپر شرعا وعید، جبکہ نان نفقہ کی بھی ذمیداری شوہر پوری نہ کرتا ہو.
asked Mar 16 in طلاق و تفریق by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1371/42-783

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  شوہر پر لازم ہے کہ اپنی تمام بیویوں کے درمیان مساوات اور برابری کرے۔ رات گزارنے اور نان و نفقہ میں کوئی کوتاہی اور ناانصافی نہ کرے۔ اس سلسلہ میں اس سے قیامت میں پوچھ ہوگی۔ تاہم اگر آپ کو زیادہ پریشانی ہو تو خلع کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔ اور اگر صبر کریں تو زیادہ بہتر بات ہے۔

واذا کان للرجل امراتان حرتان فعلیہ ان یعدل بینھما فی القسم بکرین کانتا اور ثیبین او احداھما بکرا والاخری ثیبا لقولہ علیہ السلام  من کانت لہ امراتان ومال الی احداھما فی القسم جاء یوم القیامۃ وشقہ مائل (فتح القدیر ، باب القسم 3/433) فدل ان العدل بینھن فی القسم والنفقۃ واجب والیہ اشار فی آخرالآیۃ بقولہ ذلک "ادنی ان لا تعولوا" ای تجوروا، والجور حرام فکان العدل واجبا ضرورۃ۔ (بدائع، فصل وجوب العدل بین النساء فی حقوقھن 2/332)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 22 by Darul Ifta
...