9 views
1 . کیا عورتیں اپنے سر کے بال جو کمر سے لمبے ہوں اس کو کاٹ سکتی ہیں؟

2. کیا رات کو جھوٹا برتن دھونا ضروری ہے؟ رات کو چھوڑ کر صبح کے وقت نہیں دھو سکتے؟

3. اگر کوئی ضرورت پیش آ جائے اور پیسوں کی ضرورت ہو اور کوئی بغیر سود کے قرض دینے کو تیار نہ ہو تو کیا سود پر قرض لے سکتے ہیں اور بینک سے لون لے سکتے ہیں؟

4. ایک صاحب کہتے ہیں کہ حدیث میں ہے کی مسجد میں جو پھل اگے تو اسے بیچ کر اس کا پیسا مسجد میں لگا دو اور اگر ان پھل کو کھائو تو اس کی قیمت ادا کر دو، کیا ایسی کوئی حدیث ہے؟ کیا ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے؟
asked Mar 17 in حدیث و سنت by Md Ali

1 Answer

Ref. No. 1376/42-789

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  1۔عورتوں کے لئے لمبے بال رکھنا باعث زینت ہے، اور بلا ضرورت ان کو کاٹنا سخت منع ہے۔ تاہم اگر بال اس قدر لمبے ہوں کہ کمر سے نیچے  جارہے ہوں  اور بھدے معلوم ہوں ، تو کمر سے نیچے کے بالوں کو بقدر ضرورت  عورت کاٹ سکتی  ہے۔ 2۔  رات کو دھونا ضروری نہیں بلکہ صبح بھی دھوسکتے ہیں۔  3۔ ضرورت کس درجہ کی ہے، اس کی وضاحت ضروری ہے۔ اگر ضرورت زندگی کی بقاء سے متعلق ہے تو اس کی گنجائش ہوگی۔ 4۔ ایسی کوئی حدیث میری نظر سے نہیں گذری تاہم فتاوی کی کتابوں میں یہی مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ مسجد کے درختوں پر جو پھل آئیں  اس کو بیچ کر مسجد میں لگانا چاہئے۔

قال في الدر المختار نقلاً عن المجتي قطعت شعر رأسہا أثمت زاد في البزازیة وإن یأذن الزوج لأنہ لا طاعة لمخلوق في معصیة الخالق (الدر مع الرد: 5/288) غرس الاشجار في لا بأس بہ إذا کان فیہ نفع للمسجد، وإذا غرس شجراً في المسجد فالشجر للمسجد (الھندیۃ 2/477)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 22 by Darul Ifta
...