9 views
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته،
ایک شخص ہیں جو کے مشہور ہیں کے حسد، جادو ،نظر بد وغیرہ کا علاج کرتے ہیں قران شریف سے، جبکے موصوف گھر کی بندش کیلئے کئ قسم کے رنگ برنگ کے ڈوریاں، تاگہ، ناریل وغیرہ کو یکھٹہ کرتے ہیں ،کونوں میں کیلے وغیرہ ٹھونکتے ہیں. مشہور ہے کے ختنہ کی چمڑی سے بندش کرتے ہیں.خاندَان میں ہر مالدار کو اسرار کرتے ہیں کے بندش کروالو اور اٹھ ہزار لیتے ہیں. بندش بھی ہلکی اور مضبوط، الگ الگ قیمتوں کی ہوتی ہے. کیا اسطرح  کے عملیات کو قرانی عملیات سے نسبت دی جائے؟ . بدقسمتی سے آجکل بعض لوگ اپنے اپکو دیوبند جیسی عظیم درسگاہ سے اور اسکے عقائد کے پابند کہتے ہیں اور اسطرح کے کام کرتے ہیں ، جسکی وجہ سےعوام بھی اب اسطرح کے عملیات کو جائز سمجھنے لگی ہے. از راہ کرم اس سلسلہ میں دیوبند کے موقف کی وضاحت فرمائے تاکہ دیوبند مدرسہ سے معتقد لوگ کھرے اور کھوٹے عملیات میں فرق کرسکیں.
asked Mar 28 in عائلی مسائل by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1406/42-840

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قرآنی آیات یا ماثور دعاؤں  سے جادو ونظربد کا علاج کرایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس سلسلہ میں کسی دیندار شخص سے  ہی رابطہ کرنا چاہئے۔ تاہم رنگ برنگ کی ڈوریاں اور ناریل  اور ختنہ کی چمڑی وغیرہ کا استعمال محض وہمی چیزیں ہیں، ان سے احتراز کرنا چاہئے۔ اصل اعتقاد یہ ہو کہ اللہ تعالی ہی شفا دینے والے ہیں اور قرآنی آیات وغیرہ اللہ تعالی کی رحمتوں کاوسیلہ ہیں اس لئے ان کو اختیار کیا جاتاہے تاکہ اللہ کی رحمت متوجہ ہو۔  کسی بھی چیز کو کھولنےیا بندش کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالی کو ہے:

 مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلاممسک لھا ومایمسک فلا مرسل لہ من بعدہ ۔ وان یمسسک اللہ بضر فلاکاشف لہ الا ھو وان یمسسک بخیر فھو علی کل شیئ قدیر (سورۃ الانعام)۔

 اس لئے مذکور شخص کا بندش کرانے کی ترغیب دینا بدعقیدگی ہے۔ ایسے شخص سے احتیاط لازم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Apr 4 by Darul Ifta
...