16 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فتاویٰ محمودیہ جلد17 صف 315 ط اشرفی دیوبند میں ایک مسئلہ درج ہے "" سوال:جو شخص غریب ہے کیا صرف جانور خریدنے سے اس کے ذمے قربانی واجب ہوجاتی ہے؟ الجواب :اگر وہ قربانی کے دنوں میں قربانی کی نیت سے جانور خریدے گا تب اس کے ذمے قربانی واجب ہوگی-فقط واللہ اعلم.
تو کیا اس مسئلے کی رو سے اگر کوئی غریب 10 ذی الحجہ سے پہلے کوئی جانور خریدے اور پھر کسی مجبوری سے بیچ دے تو یہ درست ہوگا ہا نہیں؟؟ کیا محض خریدنے سے قربانی کا وجوب ہوجائے گا یا نہیں؟ یا ایام قربانی میں خریدنے سے وجوب ہوگا
asked Jul 7 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1494/42-996

وباللہ التوفیق:۔ مسئلہ صحیح ہے اگر ایام قربانی میں غریب قربانی کی نیت سے جانور  خریدے گا تو اس مخصوص جانور کی قربانی اس پر واجب ہوگی۔ غریب کے حق میں قربانی کی نیت سے جانور خریدنا نذر کے درجہ میں ہے جس کا پورا کرنا واجب ہے۔ ایام قربانی سے پہلے خریدنے کا یہ حکم نہیں ہے، اور نہ ہی اس  کی قربانی اس پر واجب ہوگی۔

وإن كان معسرا أجزأته إذ لا أضحية في ذمته، فإن اشتراها للأضحية فقد تعينت الشاة للأضحية (الھندیۃ الباب الخامس بی بیان محل اقامۃ الواجب 5/299) وتجب على الفقير بالشراء بنية التضحية عندنا، فإذا فات الوقت وجب عليه التصدق إخراجا له عن العهدة (فتح القدیرللکمال، کتاب الاضحیۃ 9/514)۔ وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشتري للأضحية إذا كان المشتري فقيرا بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها --- (ولنا) أن الشراء للأضحية ممن لا أضحية عليه يجري مجرى الإيجاب وهو النذر بالتضحية عرفا؛ لأنه إذا اشترى للأضحية مع فقره فالظاهر أنه يضحي فيصير كأنه قال: جعلت هذه الشاة أضحية ۔۔۔ ولو كان في ملك إنسان شاة فنوى أن يضحي بها أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر (بدائع الصنائع، صفۃ التضحیۃ 5/62)۔

وفي الاختيار: لا تجب الأضحية على الفقير، لكنها تجب بالشراء، ويتعين ما اشتراه للأضحية. فإن مضت أيام الأضحية ولم يذبح، تصدق بها حية؛ لأنها غير واجبة على الفقير، فإذا اشتراها بنية الأضحية تعينت للوجوب، والإراقة إنما عرفت قربة في وقت معلوم، وقد فات فيتصدق بعينها (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، الالتزام او التعیین بالنیۃ او القول 12/167).

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 4 by Darul Ifta
...