24 views
:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 فتاویٰ محمودیہ میں ایک مسئلہ اس طرح ہے جسکا عنوان یہ ہے"قربانی کا دوسرا جانور خریدنے پر پہلا گمشدہ مل گیا" اسکے جواب میں فرمایا کہ. اگر وہ غریب ہے تو اس پر دونوں کی قربانی واجب ہوگی، ہاں اگر اسنے دوسرا جانور خریدتے وقت یہ نیت کی ہے کہ پہلا جانور جوگم ہوا ہے اس جگہ پر خریدتا ہوں، تو اس پر ایک ہی کی قربانی واجب ہوگی-فقط واللہ اعلم" اس میں جو یہ لکھا ہے کہ اگر یہ نیت ہو کہ پہلے گمشدہ جانور کی جگہ خریدےا ہوں تو اس پر ایک ہی کی قربانی واجب ہوگی.یہ بات درست ہے؟ اگر غریب جسکا جابور گم ہوجائے اور وہ اسکی جگہ نیت کرکے دوسرا خریدے اور پھر پہلا بھی مل جائے تو ایک کی قربانی کافی ہوجائے گی؟
asked Jul 7 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1496/42-995

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مسئلہ درست ہے، غریب نے خریدے ہوئے جانور کے گم ہونے پر دوسرا جانور جب قربانی کی نیت سے خریداتو دوسرے کی قربانی بھی نذر کے درجہ میں ہوکر واجب ہوگئی۔ لیکن اگر نیت یہ تھی کی پہلے جانور کی جگہ یہ دوسرا خریدرہاہے تو اس میں  پھر ایک ہی جانور قربانی کی نیت سے خریدنا  کہاجائے گا اور ایک ہی کی نذر مانی جائے گی۔ ایسے میں اگر پہلا جانور مل گیا تو چونکہ ایک ہی کی نیت تھی اس لئے ایک کی  قربانی کافی ہوگی۔

وفي فتاوى أهل سمرقند: الفقير إذا اشترى شاة للأضحية فسرقت فاشترى مكانها، ثم وجد الأولى فعليه أن يضحي بهما، ولو ضلت فليس عليه أن يشتري أخرى مكانها (البحر، کتاب الاضحیۃ 8/199) وفي «فتاوى أهل سمرقند» : الفقير إذا اشترى أضحية، فسرقت، فاشترى أخرى مكانها، ثم وجد الأولى، فعليه أن يضحي بهما، فرق بينه وبينما إذا كان غنياً، والفرق: أن الوجوب على الفقر بالشراء، والشراء يتعدد، فيتعدد الوجوب، والوجوب على الغني بإيجاب الشرع، والشرع لم يوجب الأضحية إلا واحدة. (المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی، الفصل الثانی فی وجوب الاضحیۃ بالنذر 6/87) وإن كان معسرا يلزمه ذبح الكل لأن الوجوب على الغني بالشرع ابتداء لا بالشراء فلم يتعين له وعلى الفقير بشرائه بنية الأضحية فتعينت عليه (الجوھرۃ النیرۃ علی القدوری، وقت الاضحیۃ 2/187) قالوا: إذا ماتت المشتراة للتضحية؛ على الموسر مكانها أخرى ولا شيء على الفقير، ولو ضلت أو سرقت فاشترى أخرى ثم ظهرت الأولى في أيام النحر على الموسر ذبح إحداهما وعلى الفقير ذبحهما (العنایۃ شرح الھدایۃ کتاب الاضحیۃ 9/516)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 4 by Darul Ifta
...