27 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعض لوگ یہاں انڈیا میں قربانی کا نظم کرت ہیں اور وہ جانور کے ڈیلروں سے خود یہ کہتے ہیں ہمیں بچہ چاہیے کم قیمت میں دو سال کا نہیں چاہئے دس بارہ ہزار کا ہو.. بیچنے والے انکو عمر بھی بتلاتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ انکی قربانی نہیں ہوسکتی. لیکن پھر بھی وہ راضی ہوکر وہی چھوٹے کالے جانور مانگتے ہیں.. تو کیا جو لوگ انکو اس طرح کے جانور بیچتے ہیں سب کچھ بتاکر تو کیا انکی کمائی حرام کی مانی جائے گی.. حالانکہ اگر ایک منع کرے تو دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں کوئی نہ کوئی انکا مطلوبہ لاکر ضرور دیتا ہے.. اس کا حکم بتلادیجئے؟
asked Jul 11 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1504/42-978

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جب جانور بیچنے والے نے جانور کی عمر وغیرہ سب کچھ کی وضاحت کردی تو اس کی کمائی حلال ہے۔یہ خریدنے والے کی ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں نے قربانی کے لئے اس کو وکیل بنایاہے ان کی طرف سے واجب جانور کی قربانی کرے۔ ایسا جانور قربانی میں ذبح کرنا جس کی عمر مکمل نہ ہو جائز نہیں ہے اور جو لوگ اس طرح کی قربانی کریں گے وہ گنہگار ہوں گے اور دوسروں کی قربانی صحیح نہ ہونے کا گناہ بھی ان کے ہی سر جائے گا۔

لابأس بأن یواجر المسلم داراً من الذمي لیسکنها، فإن شرب فیها الخمر أو عبد فیها الصلیب أو أدخل فیها الخنازیر لم یلحق للمسلم أثم في شيءٍ من ذلک؛ لأنه لم یوجرها لذلک والمعصیة في فعل المستاجر دون قصد رب الدار فلا إثم علی رب الدار في ذلک. (المبسوط ج :17 ص: 309) وذكر الزعفراني أنه ابن سبعة أشهر. والثني منها ومن المعز سنة، ومن البقر ابن سنتين، ومن الإبل ابن خمس سنين، ويدخل في البقر الجاموس لأنه من جنسه (فتح القدیر، کتاب الاضحیۃ 9/517)م (تبیین الحقائق، مما تکون الاضحیۃ 6/7) (تحفۃ الفقھاء، کتاب الاضحیۃ 3/84)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jul 15 by Darul Ifta
...