21 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آجکل لوگ قربانی کے گوشت کو تین حصے کرنے کے بجائے فریج. میں لگا دیتے ہیں اور مہینوں تک کھاتے ہیں کیونکہ فریج میں خراب نہیں ہوتا
یا پھر ایسا کرتے ہیں کہ دو تین کے بعد دیگ اتار کر پورے محلے کی دعوت کردیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے صحیح مصرف میں خرچ کردیا
تو کیا شریعت کی رو سے یہ دونوں عمل مناسب ہیں حالانکہ اس وقت حالات کی وجہ سے ضرورت مندوں کی؟؟ تعداد بہت زیادہ ہے. گویا یہ رسم بن چکی ہے اس کے بارے میں بتلا دیجئے
asked Jul 15 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1511/42-991

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قربانی کے دنوں میں گوشت غریبوں تک پہنچ جانا چاہئے تاکہ سب کو عید کی خوشیاں نصیب ہوں۔ تاہم اگر کوئی  خاص وجہ ہو، مثلا گوشت کی فراوانی ہر جگہ ہو اور اندیشہ ہو کہ لوگ   گوشت کی بے حرمتی کریں گے اور ادھر ادھر بھینک دیں گے، اور پھر اس مقصد سے گوشت کو روک لیا جائے کہ دو تین دن بعد لوگوں کو کھلادیاجائے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم بہت زیادہ دن اسٹور کرنے سے گوشت کی غذائیت متاثر ہوجاتی ہے، اس لئے زیادہ دنوں تک نہ رکھا جائے۔ اور بلا کسی وجہ خاص کے بھی اسٹور نہ کیا جائے۔  تاہم تین دن بعد کھانے اور کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

قال النبي صلی علیہ السلام: ونہیتکم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث فأمسکوا ما بدأ لکم وفي المرقاة: قال الطیبي: نہاہم أن یأکلوا ما بقي من لحوم أضاحیہم فوق ثلاث لیالٍ وأوجب علیہم التصدق بہ فرخص لہ الإمساک ما شاوٴوا (مرقاة: ۴/۱۱۲)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 2 by Darul Ifta
...