30 views
اگر کوئی شخص قربانی میں پچاس فیصد حلال کمائی لگاتا ہے اور پچاس فیصد حرام لگاتا ہے تو کیا اسکی قربانی درست ہے؟ اور کیا وہ جانور میں حصہ لے سکتا ہے
2بعض جگہوں پر لوگ قربانی کی کھال کو کوڑی پر پھینک دیتے ہیں تو اگر کوئی شخص کوڑی سے اٹھاکر بیچ دے تو کیا اس کا یہ عمل درست ہوگا؟
asked Jul 16 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1513/42-987

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ -1ایسے شخص کی قربانی  شرعا جائز نہیں  ہے، مال خبیث سے شرکت کرنے والے کو قربانی کاثواب نہیں ملے گا، تاہم  جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور میں وہ شریک تھا سب کی قربانی درست ہوگی۔2 قربانی کے جانور کی کھال کو اگر کوڑے پر سے کسی نے اٹھایا تو وہ اس کا مالک ہے، وہ اس کو استعمال کرسکتاہے اور بیچ بھی سکتاہے۔ پھینکے والے کی نیت یہی ہوتی ہے کہ اگر کسی کو ضرورت ہو تو وہ اس کو لے جائے، اس کی طرف سے ہدیہ کے حکم  میں ہے۔  

وقد یتصف بالحرمة کالحج بمال حرام.........(قولہ کالحج بمال حرام) کذا فی البحر والأولی التمثیل بالحج ریاء وسمعة، فقد یقال إن الحج نفسہ الذی ہو زیارة مکان مخصوص إلخ لیس حراما بل الحرام ہو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بینہما، کما أن الصلاة فی الأرض المغصوبة تقع فرضا، وإنما الحرام شغل المکان المغصوب لا من حیث کون الفعل صلاة لأن الفرض لا یمکن اتصافہ بالحرمة، وہنا کذلک فإن الحج فی نفسہ مأمور بہ ، وإنما یحرم من حیث الإنفاق، وکأنہ أطلق علیہ الحرمة لأن للمال دخلا فیہ، فإن الحج عبادة مرکبة من عمل البدن والمال کما قدمناہ، ولذا قال فی البحر ویجتہد فی تحصیل نفقة حلال ، فإنہ لا یقبل بالنفقة الحرام کما ورد فی الحدیث ، مع أنہ یسقط الفرض عنہ معہا ولا تنافی بین سقوطہ، وعدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ، ولایعاقب عقاب تارک الحج. اہ.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 3/ 453، مطلب فیمن حج بمال حرام،ط: زکریا،دیوبند) ....لوأخرج زکاة المال الحلال من مال حرام ذکر فی الوہبانیة أنہ یجزء عند البعض، ونقل القولین فی القنیة.وقال فی البزازیة: ولو نوی فی المال الخبیث الذی وجبت صدقتہ أن یقع عن الزکاة وقع عنہا اہ أی نوی فی الذی وجب التصدق بہ لجہل أربابہ، وفیہ تقیید لقول الظہیریة: رجل دفع إلی فقیر من المال الحرام شیئا یرجو بہ الثواب یکفر، ولو علم الفقیر بذلک فدعا لہ وأمن المعطی کفرا جمیعا.(الدرالمختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 3/ 219، ط: مطلب فی التصدق من المال الحرام،ط: زکریا، دیوبند)

وله أن ينتفع بجلد أضحيته في بيته بأن يجعله سقاء أو فروا أو غير ذلك؛ لما روي عن سيدتنا عائشة - رضي الله عنها - أنها اتخذت من جلد أضحيتها سقاء ولأنه يجوز الانتفاع بلحمها فكذا بجلدها، وله أن يبيع هذه الأشياء بما يمكن الانتفاع به مع بقاء عينه من متاع البيت كالجراب والمنخل؛ لأن البدل الذي يمكن الانتفاع به مع بقاء عينه يقوم مقام المبدل فكان المبدل قائما معنى فكان الانتفاع به كالانتفاع بعين الجلد   (بدائع الصنائع، بیان رکن النذر 5/81)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 2 by Darul Ifta
...