91 views
کیا نماز کی نیت منھ سے کہنا بدعت ہے؟ جماعت کے ساتھ نماز ہورہی ہو اور کوئی انسان دیر سے پہونچے  اور جب تک جماعت میں شامل ہو تب تک امام صاحب رکوع میں جاچکے ہو، بعد میں آنے والے کو یہ لگے کہ اس کی رکعت چھوٹ جائے گی، اور اسے یہ رکعت مل جائے اس وجہ سے وہ انسان اللہ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کان تک لے جاکر سیدھے رکوع میں شامل ہوجائے تو (نہ تو ناف کے نیچے ہاتھ باندھے نہ ہی قیام کرے) جبکہ ایسا کرنے پر اس نے نماز کے فرائض چھوڑ دئے تو کیا اس حالت میں اس کی نماز ہوجائےگی؟
asked Sep 19, 2021 in نماز / جمعہ و عیدین by Sayeed

1 Answer

Ref. No. 1611/43-1164

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (1)  نیت دل  کے  ارادہ کا نام ہے، اگر نیت کرلی تو زبان سے کہنا ضروری نہیں ہے، البتہ زبان سے نیت کا ادا کرنا بھی جائز ہے،اس کو  بدعت  کہنا درست نہیں ہے جبکہ  بعض فقہاءِ کرام نے زبان سے نیت کو مستحب قراردیا ہے۔ (2) صورت مسئولہ میں اگر  حالت قیام میں اللہ اکبر کہا اور ہاتھ باندھے بغیر رکوع میں چلاگیا تو بھی اس کی نماز درست ہوجائے گی۔ ہاتھ کانوں تک اٹھانا، ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا اوراللہ اکبر کہنے کے بعد  قیام میں کچھ دیررہنافرائض میں سے  نہیں ہے۔ اللہ اکبر (تکبیر تحریمہ) کھڑے ہونے کی حالت میں کہے اور اس کے فورا بعد رکوع میں چلاجائے تو اس کو رکوع پانے والا شمار کیاجائے گا۔ اس میں کسی فرض کا ترک کرنا لازم نہیں آیا اس لئے نماز درست ہوجائے گی۔  

والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة ) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب؛ لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكيفيه اللسان ، مجتبى ( وهو ) أي عمل القلب ( أن يعلم ) عند الإرادة ( بداهة ) بلا تأمل ( أي صلاة يصلي ) فلو لم يعلم إلا بتأمل لم يجز ( والتلفظ ) عند الإرادة ( بها مستحب ) هو المختار(شامی  (1/415) الفصل الرابع في النية) النية إرادة الدخول في الصلاة والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي وأدناها ما لو سئل لأمكنه أن يجيب على البديهة وإن لم يقدر على أن يجيب إلا بتأمل لم تجز صلاته ولا عبرة للذكر باللسان، فإن فعله لتجتمع عزيمة قلبه فهو حسن، كذا في الكافي (الھندیۃ 2/459)

فلو کبر قائماً فرکع ولم یقف صح؛ لأن ما أتی بہ من القیام إلی أن یبلغ حد الرکوع یکفیہ، قنیة (شامی، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، 2/131 ط؛ مکتبة زکریا دیوبند) ولا یصیر شارعاً بالتکبیر إلا في حالة القیام الخ (الہندیة، کتاب الصلاة، الباب الرابع، الفصل الأول 1/68)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Sep 21, 2021 by Darul Ifta
...