30 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کیا شریعت ہمیں ومل، تمباکو وغیرہ کی تجارت کرنے کی اجازت دیتی ہے؟؟ کیا یہ حلال ہے؟
معاذ غازی
پونہ، مہاراشٹر
9860020176
asked Oct 4, 2021 in متفرقات by muaaz123

1 Answer

Ref. No. 1645/43-1318

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ تمباکو وغیرہ کی تجارت  کو علماء نے جائز قرار دیاہے، اس لئے  اس کی تجارت  جائز ہے اور  اس کی آمدنی اور نفع   حلال ہے، تاہم یہ کوئی  اچھا کاروبار نہیں ہے، کوئی مناسب اور غیرمشکوک کاروبار تلاش کرنا چاہئے۔

(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. (شامی، کتاب الاشربۃ 6/454)

قلت التوفيق بينهما ممكن بما نقله شيخنا عن القهستاني آخر كتاب الأشربة ونصه أن البنج أحد نوعي القت حرام؛ لأنه يزيل العقل وعليه الفتوى بخلاف نوع آخر منه، فإنه مباح كالأفريت؛ لأنه وإن اختل العقل لكنه لا يزيل وعليه يحمل ما في الهداية وغيرها من إباحة البنج كما في شرح اللباب (البحرالرائق، انکرالزانی الاحصان 5/30)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Nov 4, 2021 by Darul Ifta
...