29 views
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلۂ ذیل کے بارے میں: کہ ہمارے والد صاحب کا ایک ہی دو منزلہ مکان ہے، وہ اپنی ہی زندگی میں ہم تین بھائیوں کو مالک بنانا چاہتے ہیں، اس کا کیا طریقۂ کار ہوگا؟ وہ خود بھی اور والدہ بھی اسی گھر میں رہتے ہیں، ہبہ کے تام ہونے کے لیے قبضہ شرط ہے، تو قبضہ دینے کا کیا طریقہ ہے، کیا کیا شرائط ہیں؟ یہ طریقہ اپنانا کہ کچھ منٹوں کے لیے گھر سے باہر جاکر ہمیں مالک بنادیں، یہ معتبر ہوگا؟ نیز کوئی کمرہ یا جگہ متعین کیے بغیر مشترکہ طور پر ہم تین بھائیوں کو دینا درست ہے یا نہیں، یعنی یہاں مشاع کا ہبہ ہوگا، تو کیا یہ درست ہوجائے گا یا نہیں؟ دلائل کی روشنی میں واضح فرمائیں! بینوا توجروا
asked Oct 20, 2021 in متفرقات by محمد خالد

1 Answer

Ref. No. 1666/43-1292

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  ہبہ کے تام ہونے اور ملکیت کا فائدہ دینے کے لیے قبضہ اور تصرف کا مکمل اختیار دینا شرط ہے، لہٰذا والد کا اپنی اولاد میں موجودہ مکان کو مشترکہ طور پر ہبہ کرنا درست نہیں ہوگا، اگروالد نے زبانی طور پر ہبہ کیا ہو اور مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار  نہ دیا ہو تو وہ  مکان بدستور والد کی ملکیت میں رہے گا اور والد کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ شمار ہوکر تمام ورثاء میں ضابطہء شرعی کے موافق تقسیم ہوگا۔ والد  اگر  اپنی اولاد کے درمیان کمروں کی تقسیم کردیں اور ایک کمرہ اپنے لئے رکھ لیں تو یہ مناسب ہے۔  

لأن هبة المشاع باطلة وهو الصحيح كما في مشتمل الأحكام نقلا عن تتمة الفتاوى والهبة الفاسدة لا تفيد الملك على ما في الدرر وغيرها والمسألة مسطورة في التنوير أيضا (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ، کتاب الھبۃ 2/85)

وفي الجوهرة، وحيلة هبة المشغول أن يودع الشاغل أولا عند الموهوب له ثم يسلمه الدار مثلا فتصح لشغلها بمتاع في يده (في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار (فإن قسمه وسلمه صح) لزوال المانع (شامی، کتاب الھبۃ 5/692)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Nov 1, 2021 by Darul Ifta
...