61 views
السلام علیکم السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
فتنہ احلاس کا ذکر کرتے ہوئے اکثر جگہ کچھ اسطرح پڑھا گیا "احلاس اس لیے فرمایا کہ وہ فتنہ بہت عرصہ تک رہے گا ٹاٹ کی طرح ہوگا کہ ہٹے گا نہیں، اس لیے فرمایا کہ اس زمانہ میں لوگوں کو ٹاٹ کی طرح اپنے گھروں میں رہنا مفید ہوگا جو باہر پھرے گا مبتلا ہوجاوے گا"..چونکہ آجکل جو کرونا کی وجہ سے آدمی کیساتھ ماسک چپکا ہوا ہے جسکا ماضی میں تصور بھی نہیں تھا، تو کوئ کہنے والا اسطرح کہے کے احلاس سے مراد موجودہ کرونا کی وجہ سے جو حالات بنے وہ بھی ہوسکتا اور پھر کہے الله و رسوله أعلم، تو کیا آدمی کا اسطرح کہنا گمراہ کن بات ہوگی.. جواب مرحمت فرماکر ماجور ہوں انشاء الله.july
asked Jan 19 in متفرقات by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1740/43-1511

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ موجودہ کورونا کی صورت حال سے فتنہ  احلاس مراد لینا درست نہیں ہے۔ کورونا ایک وبائی صورت حال ہے جس کو طاعون یا جیسی دوسری وبائی صورت حال سے تشبیہ دے سکتے ہیں لیکن فتنہ احلاس سے تعبیر نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لئے کہ فتنہ احلاس کی تفسیر خود آپ ﷺ نے کی ہے جس میں جنگ اور لوٹ مار کی کثرت کوبیان کیا ہے اور جنگ کی طوالت کی طوالت کی وجہ سے لوگ گھر میں ٹاٹ کی طرح پڑے رہیں گے۔ فتنہ احلاس میں وبائی امراض کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔

قال فی عون المعبود: (كنا قعودا) أي قاعدين (فذكر) النبي (الفتن) أي الواقعة في آخر الزمان (فأكثر) أي البيان (في ذكرها) أي الفتن (حتى ذكر) النبي (فتنة الأحلاس) قال في النهاية الأحلاس جمع حلس وهو الكساء الذي يلي ظهر البعير تحت القتب شبهها به للزومها ودوامها، (هي) أي فتنة الأحلاس (هرب) بفتحتين أي يفر بعضهم من بعض لما بينهم من العداوة والمحاربة قاله القارىء (وحرب) في النهاية الحرب بالتحريك نهب مال الإنسان وتركه لا شيء له انتهى (عون المعبود شرح ابی داؤد، باب ذکر الفتن ودلائلھا 11/208)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jan 19 by Darul Ifta
...